LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کا متنازعہ آبادکاری منصوبہ اور دو ریاستی حل کا مستقبل

News Image
اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر کے متنازعہ منصوبے پر بین الاقوامی سطح پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں دو ریاستی حل کی امیدوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے لیے شروع کیے گئے متنازعہ منصوبے نے ایک بار پھر عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ، جسے 'ای ون' (E1) پروجیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، فلسطینی علاقوں کے درمیان رابطہ منقطع کرنے اور مستقبل میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہے تو یہ دو ریاستی حل کے تصور کو عملی طور پر دفن کر دے گا، جس سے خطے میں قیامِ امن کی کوششیں ہمیشہ کے لیے ناکام ہو سکتی ہیں۔ اس منصوبے کے خلاف عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، کینیڈا اور ناروے کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس توسیعی منصوبے کو فوراً منسوخ کرے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کے بجائے کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔ مصر اور اردن نے بھی اس پیشرفت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی ریاست کے قیام کے حق اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ فلسطینی صدارت نے اس اقدام کو ایک خطرناک اسرائیلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اس طرح کی کارروائیاں سنگین علاقائی نتائج کا حامل ہو سکتی ہیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق، اسرائیل کا مقصد جغرافیائی زمینی حقائق کو تبدیل کر کے فلسطینیوں کی زمینوں پر مستقل قبضہ جمانا ہے۔ فلسطینی عوام نے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ منصوبے سکیورٹی اور ترقیاتی ضروریات کے تحت ہیں، تاہم ناقدین اسے سیاسی استحصال قرار دیتے ہیں۔ حالیہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر رہا ہے اور سفارتی سطح پر اس مسئلے کا کوئی پرامن حل فی الحال دور کی کوڑی دکھائی دیتا ہے۔ اب عالمی طاقتوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا اسرائیل بین الاقوامی دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے اپنے اس متنازعہ فیصلے پر نظر ثانی کرے گا یا پھر یہ علاقہ مزید تباہ کن تنازعات کی طرف بڑھے گا۔