LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر امریکی دباؤ: چین اور روس کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

News Image
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے چین اور روس کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات امریکی انتظامیہ کے لیے ایران کو تنہا کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔ بیجنگ اور ماسکو کی حمایت تہران کو نئی امریکی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے اور اس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کے باوجود، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کے چین اور روس کے ساتھ موجود گہرے تجارتی و سیاسی تعلقات اس مقصد کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ تہران، بیجنگ اور ماسکو کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی علامت ہے کہ امریکی پابندیوں کا اثر اب پہلے جیسا نہیں رہا اور ایران عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ چین، ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جو تہران سے خام تیل کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے، جس سے ایران کی معیشت کو ایک اہم لائف لائن ملتی ہے۔ دوسری جانب روس کے ساتھ ایران کے دفاعی اور سفارتی تعلقات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جس نے ماسکو کو ایران کے لیے ایک مضبوط اتحادی بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن ایران کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتا ہے تو بیجنگ اور ماسکو اپنی قومی ترجیحات کے پیش نظر ایران کا ساتھ دینے کو ترجیح دیں گے، کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے خواہاں ہیں۔ روس اور چین کا یہ مشترکہ موقف نہ صرف ایران کی معاشی بقا کے لیے اہم ہے بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ امریکا کے لیے اب یہ چیلنج بن چکا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی نظام اور پابندیوں کے ذریعے ان ممالک کے مابین قائم مضبوط تجارتی روابط کو کیسے توڑتا ہے۔ اگرچہ امریکا کے پاس پابندیوں کے ذریعے عالمی مالیاتی ڈھانچے پر کنٹرول موجود ہے، لیکن چین اور روس نے اب ایسے نظام وضع کرنا شروع کر دیے ہیں جو امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کرتے ہیں، جس سے ایران جیسے ممالک کو پابندیوں کے باوجود تجارت جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے۔ مختصراً یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف پالیسیوں کو چین اور روس کی جانب سے ملنے والی سفارتی اور معاشی حمایت ایک بڑی آزمائش میں ڈال سکتی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکا اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر ایران کو واقعی تنہا کرنے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا پھر یہ تینوں ممالک مل کر ایک نیا بلاک تشکیل دے کر امریکی دباؤ کو غیر موثر بنا دیتے ہیں۔