Pakistan
عمران خان کی ہسپتال منتقلی: سیکیورٹی انتظامات اور عدالتی حکم نامہ
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی حکومت نے اس عدالتی حکم کے خلاف نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کر دی ہے۔
اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ممکنہ طبی منتقلی کے لیے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد سامنے آئی ہے جس میں عدالت نے قید سابق وزیر اعظم کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے ہسپتال کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت حصار قائم کر دیے ہیں اور ہسپتال کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں ہر وقت مستعد ہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں یہ حکم جاری کیا تھا، جس میں واضح کیا گیا کہ قید میں ہونے کے باوجود کسی بھی شخص کے بنیادی انسانی حقوق اور طبی امداد تک رسائی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق، بانی پی ٹی آئی کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لایا جائے گا، اور اگر انہیں داخلے کی ضرورت پیش آئی تو متعلقہ وارڈ کو سب جیل قرار دے دیا جائے گا جہاں اڈیالہ جیل کا عملہ بھی تعینات رہے گا۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہسپتال کے قریب ہجوم نہ کریں تاکہ سیکیورٹی اور طبی عملے کے کام میں رکاوٹ نہ آئے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کا حکم 'امتیازی' ہے اور یہ دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے، اس لیے اسے واپس لیا جائے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے تمام تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی وکیل کی جانب سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اپنے حکم پر نظر ثانی کرے۔
یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی جماعت اور اہل خانہ کی جانب سے مسلسل ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور جیل میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ان کی پہلی ترجیح ہے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی نظر ثانی کی اپیل پر عدالت کا اگلا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے، تاہم فی الحال ہسپتال کے ارد گرد سیکیورٹی کا انتہائی سخت پہرہ برقرار ہے۔