LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کا بیرون ملک علاج، حکومت کا اہم بیان سامنے آ گیا

News Image
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں بیان دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اگر طبی ضرورت پڑی تو انہیں بیرون ملک علاج کے لیے بھیجنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور عدالت سے صرف قانونی وضاحت مانگی گئی ہے۔
اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے سابق وزیراعظم اور دیگر قید رہنماؤں بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کی صحت کے مسائل پر اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور انہیں 'روح کے مطابق' نافذ کرنے کی پابند ہے۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ملکی قوانین کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم اگر کسی کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھیجنے کی ضرورت پیش آئی تو تمام قانونی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی طبیعت شدید خراب ہے اور وہ کینسر اور دمہ سمیت کمر کے درد میں مبتلا ہیں، جس کے باعث انہیں جیل میں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈاکٹر یاسمین راشد کو ہسپتال منتقل کیا جائے یا انہیں گھر میں نظر بند کیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی کارکنوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے اور سیاست کو جرم بنانے کا رجحان ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد سے ملک میں سیاسی کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ حکومتی وزیر نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مقصد عدالتی فیصلے کی توہین کرنا نہیں، بلکہ محض یہ وضاحت حاصل کرنا تھا کہ آیا یہ سہولت صرف ایک فرد کے لیے ہے یا دیگر قیدی بھی اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قانون کا اطلاق سب کے لیے برابر ہو، تاہم کسی بھی قیدی کو ریلیف صرف عدالتی عمل کے ذریعے ہی مل سکتا ہے، نہ کہ انتظامی فیصلوں سے۔ طارق فضل چوہدری نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انتقامی سیاست نہیں کر رہی بلکہ عدالتی اور قانونی تقاضوں کو پورا کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پنجاب حکومت سے بات کر کے ڈاکٹر یاسمین راشد کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن کو آگاہ کیا جائے گا۔ آخر میں وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی اپنے موقف کو دہرایا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو سرکاری ہسپتالوں میں مطلوبہ علاج میسر نہ ہوا تو حکومت شفا انٹرنیشنل یا ضرورت پڑنے پر بیرون ملک علاج سمیت تمام قانونی راستوں پر غور کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نو مئی کے واقعات پر عدالتیں فیصلے سنا چکی ہیں اور حکومت کسی بھی ایسے فیصلے کو تبدیل کرنے کی مجاز نہیں جو عدلیہ کی جانب سے دیے گئے ہوں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی احکامات کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے تاکہ سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔