LIVE
Loading Breaking News...

عمان پر امریکی دھمکی: کیا خلیجی ممالک واشنگٹن پر اب بھی اعتماد کر سکتے ہیں؟

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کو بمباری کی دھمکی نے خطے میں ایک نئے اور خطرناک بحران کو جنم دیا ہے۔ اس بیان کے بعد خلیجی ممالک کے واشنگٹن کے ساتھ سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی ضمانتوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کو دی جانے والی دھمکی کہ اگر مسقط تہران کے ساتھ واشنگٹن کے مذاکرات میں مداخلت کرتا ہے تو اس پر بمباری کی جائے گی، عالمی برادری کے لیے ایک حیران کن پیشرفت ہے۔ یہ بیان نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ اس نے خطے کے ان ممالک میں بھی خوف و ہراس پھیلا دیا ہے جو طویل عرصے سے امریکہ کے اتحادی رہے ہیں۔ عمان، جو روایتی طور پر خطے میں ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے، اب خود اس تنازعہ کا نشانہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دھمکی خلیجی ممالک کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ امریکہ کے مفادات کے سامنے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی تعاون کونسل کے اراکین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا واشنگٹن کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری اب بھی پائیدار ہے یا انہیں اپنی دفاعی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے اپنے ہی اتحادیوں کو اس قسم کی دھمکیاں دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کا استعمال اب سفارت کاری پر فوقیت اختیار کر چکا ہے۔ عمان پر بمباری کا ذکر کرنا نہ صرف سفارتی چینلز کو کمزور کرتا ہے بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خلیجی ممالک، جو پہلے ہی ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان ہیں، اب امریکی غیر یقینی پالیسیوں کے درمیان خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہ دھمکیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خطے کی معیشت پر بلکہ عالمی تیل کی سپلائی لائن پر بھی پڑیں گے، جس سے عالمی منڈی میں شدید افراتفری کا خدشہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا خلیجی ممالک اس دباؤ کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں اور کیا وہ واشنگٹن سے اپنی دوری اختیار کریں گے یا امریکہ اپنے اتحادیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کوئی نیا سفارتی راستہ اپنائے گا۔ فی الحال، خطے کا سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ ہے اور ہر کوئی اس بات کا منتظر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس جارحانہ رویے کا انجام کیا ہوگا۔