LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور کینسر کا علاج: موڈرنا کی تحقیق پر ایک نظر

News Image
موڈرنا کمپنی کینسر کے علاج کے لیے مصنوعی ذہانت اور نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ کا استعمال کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ مکمل علاج نہیں مگر یہ تحقیق کینسر کے خلیات کی شناخت میں نمایاں بہتری لاتی ہے۔
طبی سائنس کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات نے کینسر جیسے مہلک امراض کے خلاف جنگ میں نئی امیدیں پیدا کر دی ہیں۔ حال ہی میں موڈرنا (Moderna) کمپنی کی جانب سے پیش کردہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اگرچہ ابھی اے آئی کینسر کا حتمی علاج ثابت نہیں ہوا ہے، تاہم اس کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کینسر کے علاج میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ موڈرنا کا نیو اینٹیجن (Neoantigen) سلیکشن پروجیکٹ ایک ایسا انقلابی اقدام ہے جو کینسر کے علاج کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک ٹیومر کے اندر ہزاروں تبدیلیاں یا میوٹیشنز ہو سکتی ہیں، جن میں سے صرف چند ہی ایسے پیپٹائڈز پیدا کرتی ہیں جو ایم ایچ سی (MHC) پر ظاہر ہوتے ہیں اور انہیں ٹی سیلز (T cells) شناخت کر سکتے ہیں۔ موڈرنا کا نیا پائپ لائن سسٹم نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے۔ اس عمل میں مریض کے ٹیومر اور خون کے نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ان مخصوص پروٹینز یا اینٹیجنز کی شناخت کی جاتی ہے جو ٹیومر کو بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا الگورتھم ان تمام ڈیٹا پوائنٹس کا جائزہ لے کر یہ طے کرتا ہے کہ کون سے اینٹیجنز انسانی مدافعتی نظام کو متحرک کرنے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں ڈیٹا کی درستگی بے حد اہمیت کی حامل ہے، اور اے آئی کی شمولیت سے یہ عمل کئی گنا زیادہ تیز اور درست ہو چکا ہے۔ اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ذاتی نوعیت کی ادویات (Personalized Medicine) کے تصور کو حقیقت کا روپ دے رہی ہے۔ ہر مریض کا کینسر منفرد ہوتا ہے، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے اب ایسے ویکسینز یا تھراپیز تیار کرنا ممکن ہو رہا ہے جو مریض کے اپنے جینیاتی مواد کے مطابق ہوں۔ اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی طویل طبی تجربات اور مراحل باقی ہیں، مگر ابتدائی نتائج یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ کینسر کے علاج میں ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت کا ملاپ آنے والے برسوں میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ عالمی طبی برادری اب بڑی دلچسپی کے ساتھ اس تحقیق کو دیکھ رہی ہے جو آنے والے وقتوں میں کینسر کے مریضوں کے لیے زندگی کی نوید ثابت ہو سکتی ہے۔