LIVE
Loading Breaking News...

ملتان میں دریائے چناب کا سیلاب، 22 علاقے زیرِ آب اور فصلیں تباہ

News Image
د دریائے چناب سے آنے والے سیلابی پانی کے باعث ملتان ضلع کے 22 مواضعات میں تین سے چار فٹ تک پانی جمع ہو گیا ہے جس سے کھڑی فصلیں تباہ اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق پانی کی سطح میں کمی آ رہی ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
لاہور: دریائے چناب میں طغیانی کے بعد ملتان ضلع کے کم از کم 22 مواضعات (ریونیو اسٹیٹس) تین سے چار فٹ تک سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مکینوں کو اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سیلاب کی تازہ ترین صورتحال کی رپورٹ کے مطابق، ضلع بھر میں کل 545 مواضعات ہیں جن میں سے 138 سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جن 22 مواضعات میں پانی داخل ہوا ہے ان میں ملتان صدر کے 4، شجاع آباد کے 7 اور جلال پور پیروالا تحصیل کے 11 علاقے شامل ہیں۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ بڑھتے ہوئے پانی نے کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے جہاں کپاس، چارہ اور دیگر کھڑی فصلیں مکمل طور پر ڈوب چکی ہیں، جس سے خطے کے کسانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تاحال کسی بھی موضع کو شدید متاثرہ قرار نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی باضابطہ انخلا کا حکم جاری کیا گیا ہے کیونکہ پانی کی سطح میں بتدریج کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ملتان کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا دباؤ کم ہو کر اب ایک لاکھ 10 ہزار کیوسک تک رہ گیا ہے، تاہم دریا کے مکمل طور پر معمول پر آنے تک پوری انتظامیہ ہائی الرٹ پر رہے گی۔ انہوں نے دریائے چناب کے بیلٹ کے ساتھ رہنے والے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ چوکنا رہیں، حکومتی احکامات پر عمل کریں اور کسی بھی افواہ پر کان دھرنے کے بجائے صرف مستند سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔ ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث مشرقی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور شہری سیلاب کا خدشہ بھی موجود ہے۔ پی ڈی ایم اے نے لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ملتان سمیت دیگر شہروں میں اربن فلڈنگ کے خطرے کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔