LIVE
Loading Breaking News...

ناسا کا کمرشل سوئفٹ بوسٹ مشن اور تکنیکی مشکلات کی تفصیل

News Image
ناسا اور کیٹلسٹ اسپیس نے اعلان کیا ہے کہ خلائی جہاز لنک میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے سیٹلائٹ کو بلند مدار میں منتقل کرنے کا مشن مکمل نہیں ہو سکے گا۔ اس تبدیلی کے باوجود ٹیمیں مستقبل کے لیے ڈیٹا اکٹھا کرنے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور کیٹلسٹ اسپیس کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا مشترکہ منصوبہ 'سوئفٹ بوسٹ' تکنیکی مشکلات کے باعث اپنی اصل شکل میں جاری نہیں رہ سکے گا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک کمرشل خلائی جہاز 'لنک' (LINK) کے ذریعے ناسا کے ایک سیٹلائٹ کو بلند مدار میں منتقل کرنا تھا تاکہ اس کی سائنسی خدمات کی مدت میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ تاہم، خلائی جہاز کے ایٹیٹیوڈ کنٹرول (خلائی جہاز کے رخ کو برقرار رکھنے والا نظام) میں درپیش مسلسل مسائل نے مشن کی کامیابی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خلائی سفر کے دوران کسی بھی مشین میں معمولی سی خرابی بھی انتہائی پیچیدہ نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے محتاط رویہ اپناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سیٹلائٹ کو بوسٹ کرنے کا عمل روک دیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ اگرچہ اس اہم ترین مرحلے کو منسوخ کر دیا گیا ہے، لیکن خلائی ادارے اور کیٹلسٹ اسپیس کی تکنیکی ٹیمیں اس بات کا اعادہ کر رہی ہیں کہ 'لنک' خلائی جہاز ابھی بھی دیگر اہم آپریشنل صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ ناسا کے سائنسدان اب اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان تکنیکی خامیوں کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔ اس قسم کی ناکامیاں خلائی تحقیق کا ایک حصہ سمجھی جاتی ہیں کیونکہ خلا کے غیر متوقع ماحول میں ہر تجربہ سیکھنے کا ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ناسا کی جانب سے مزید تکنیکی رپورٹس جاری کی جائیں گی جن میں بتایا جائے گا کہ اس مشن کا مستقبل کیا ہوگا اور سیٹلائٹ کو محفوظ رکھنے کے لیے دیگر متبادل راستے کون سے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ نجی شعبے کی جانب سے ناسا کے ساتھ شراکت داری خلائی تحقیق کے نئے دور کا آغاز ہے، جس میں اس طرح کے چیلنجز متوقع ہوتے ہیں۔ کیٹلسٹ اسپیس اور ناسا اب اپنی توجہ اس بات پر مرکوز کر رہے ہیں کہ 'لنک' خلائی جہاز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو کس طرح مستقبل کے مشنز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی کی بہتری کے لیے اس طرح کی تحقیق ناگزیر ہے اور وہ اپنے اگلے اہداف کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گے۔