LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں ماں کی ہولناک سچائی کا انکشاف، بیٹے پر کیے گئے غیر ضروری آپریشنز

News Image
برطانیہ کی ایک بدنام زمانہ خاتون کے بیٹے نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی والدہ نے پیسوں کی لالچ میں اسے بچپن میں کئی غیر ضروری آپریشنز کروانے پر مجبور کیا۔ اس اذیت ناک عمل کے نشانات آج بھی اس کے جسم پر موجود ہیں جو اسے اس کے تلخ ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔
برطانیہ کی تاریخ کی 'بدترین ماں' کہلانے والی ایک خاتون کے بیٹے میتھیو نے اپنی زندگی کے انتہائی تاریک پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔ میتھیو نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ چار سال کی عمر سے ہی اسے اس کی اپنی ماں کی جانب سے مختلف طبی مسائل کا بہانہ بنا کر بارہا ہسپتالوں کے چکر لگوائے گئے اور غیر ضروری سرجریوں سے گزارا گیا۔ یہ سب کچھ محض پیسوں کے حصول کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ اس کی ماں نے جھوٹ بول کر اور اپنے بیٹے کو بیمار ظاہر کر کے بھاری رقوم بٹورنے کا ایک گھناؤنا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ میتھیو کے مطابق، اسے بچپن میں جن آپریشنز کا سامنا کرنا پڑا ان کی طبی لحاظ سے کوئی ضرورت نہیں تھی، لیکن اس کی ماں کی مکاری اور جھوٹے دعووں نے ڈاکٹروں کو بھی دھوکے میں رکھا۔ ان سرجریوں کے نتیجے میں اسے نہ صرف شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کے جسم پر ایسے گہرے زخموں کے نشانات رہ گئے ہیں جو آج بھی اس کے دردناک بچپن کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ نہ صرف جسمانی تشدد تھا بلکہ ذہنی اذیت کا ایک ایسا سلسلہ تھا جس نے میتھیو کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا اور اسے اعتماد کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کیس نے پوری برطانوی عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اسے چائلڈ ابیوز یعنی بچوں پر تشدد کے بدترین واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ میتھیو کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ان زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے جو اسے اس کی ماں نے دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس 'منچاؤسن سنڈروم بذریعہ پراکسی' (Munchausen syndrome by proxy) کی ایک انتہائی خطرناک شکل ہے، جس میں ایک سرپرست اپنے زیر کفالت بچے کو جان بوجھ کر بیمار ظاہر کرتا ہے تاکہ دوسروں کی ہمدردی یا مالی فوائد حاصل کر سکے۔ اب میتھیو اپنی کہانی کے ذریعے لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ کس طرح ایک ماں، جو تحفظ کی علامت ہوتی ہے، پیسوں کی ہوس میں اتنی نیچے گر سکتی ہے کہ اپنے ہی لخت جگر کی زندگی داؤ پر لگا دے۔ اس کا یہ انکشاف جہاں ایک طرف انسانیت سوز عمل کی عکاسی کرتا ہے، وہیں دوسری طرف طبی نظام میں موجود ان خامیوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے جس کا فائدہ اٹھا کر یہ خاتون طویل عرصے تک اپنے گھناؤنے مقاصد میں کامیاب رہی۔