LIVE
Loading Breaking News...

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور عالمی ترقی: فی فی لی کا اہم بیان

News Image
معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماہر فی فی لی نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے خلاف بڑھتا ہوا ردعمل عالمی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو اے آئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی معروف ماہر اور ورلڈ لیبز کی سی ای او فی فی لی نے خبردار کیا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کے خلاف دنیا بھر میں پایا جانے والا منفی ردعمل عالمی تکنیکی ترقی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ بلومبرگ نیوز کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ اے آئی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کی مخالفت ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ فی فی لی کے مطابق دنیا اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں اے آئی کو انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ فی فی لی نے اپنے بیان میں امریکہ پر زور دیا کہ اسے اے آئی کے شعبے میں دنیا کے لیے ایک عملی نمونہ اور رہنما بن کر سامنے آنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو نہ صرف تکنیکی اختراعات میں سبقت حاصل کرنی چاہیے بلکہ اخلاقی اور ضابطہ اخلاق کے ایسے معیارات بھی قائم کرنے چاہئیں جو عالمی سطح پر دیگر ممالک کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں۔ ان کے مطابق امریکہ کا ذمہ دارانہ رویہ دیگر ممالک کو بھی اپنی اے آئی پالیسیوں کو درست سمت میں رکھنے کی ترغیب دے سکتا ہے، جس سے اس ٹیکنالوجی کے خطرات کو کم اور فوائد کو زیادہ کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری 'بیک لیش' یا ردعمل اکثر معلومات کی کمی اور غلط فہمیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ فی فی لی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پالیسی سازوں اور ٹیک کمپنیوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی خدشات کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی کو صرف منفی پہلوؤں سے دیکھا گیا تو ہم اس عظیم سائنسی انقلاب کے ان فوائد سے محروم رہ سکتے ہیں جو صحت، تعلیم، اور ماحولیاتی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آخر میں، فی فی لی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ٹیکنالوجی کے خوف سے باہر نکل کر اس کے ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ مرکوز کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر اے آئی کے لیے ایک اچھا اور شفاف ماڈل پیش کرے تو دنیا بھر میں اس کے پھیلاؤ کے حوالے سے پائے جانے والے تحفظات کم ہو سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ تکنیکی پیش رفت اور عوامی اعتماد کے درمیان توازن قائم کیا جائے تاکہ مستقبل کی نسلیں اس ٹیکنالوجی سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں۔