LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کے اشتہارات اور اے آئی ایپ کا تنازع: ایپل کی جانب سے بڑی کارروائی

News Image
میٹا نے حال ہی میں ایک ایسی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپ کے اشتہارات چلائے جو خواتین سیاستدانوں کی غیر اخلاقی اور نازیبا تصاویر تیار کرنے کی سہولت فراہم کرتی تھی۔ اس سنگین معاملے کے سامنے آنے کے بعد ایپل نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ ایپ کو اپنے ایپ اسٹور سے ہٹا دیا ہے۔
سوشل میڈیا کی بڑی کمپنی میٹا کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب یہ انکشاف ہوا کہ کمپنی کے پلیٹ فارمز پر ایک ایسی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایپ کے اشتہارات چلائے گئے جو خواتین سیاستدانوں کی غیر اخلاقی اور نازیبا تصاویر تیار کرنے کی سہولت فراہم کرتی تھی۔ یہ واقعہ ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقیات اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ میٹا کے اشتہاری نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کس طرح اس طرح کا مواد، جو کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، ان کے پلیٹ فارم سے منظور ہو کر صارفین تک پہنچ گیا۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد تکنیکی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کا یہ غلط استعمال کسی بھی معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے، خاص طور پر جب اسے بااثر خواتین سیاستدانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایسے ایپس نہ صرف نجی زندگی کے تقدس کو پامال کرتی ہیں بلکہ آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل تشدد کے رجحانات کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ میٹا کے ترجمانوں کی جانب سے اس معاملے پر ابتدائی طور پر کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم کمپنی کی اشتہاری پالیسیوں پر نظر رکھنے والے حلقوں نے اسے ایک بڑی ناکامی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایپل کمپنی نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے فوری طور پر مذکورہ ایپ کو اپنے 'ایپ اسٹور' (App Store) سے ہٹا دیا ہے۔ ایپل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان کا پلیٹ فارم کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا جو کسی فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے یا غیر اخلاقی مواد کی تخلیق میں مددگار ثابت ہو۔ ایپل کے اس اقدام کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، تاہم صارفین کا مطالبہ ہے کہ صرف ایپ ہٹانا کافی نہیں ہے بلکہ اس طرح کی ٹیکنالوجی بنانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اے آئی ماڈلز اور اشتہاری مواد کی سخت نگرانی کریں۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی فرد کو انٹرنیٹ پر ہراساں ہونے سے بچایا جا سکے۔ میٹا اور ایپل جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر اب یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے الگورتھمز میں بہتری لائیں تاکہ نفرت انگیز اور غیراخلاقی مواد کی تشہیر کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔