LIVE
Loading Breaking News...

ویری ایبل ٹیکنالوجی کا مستقبل: نئی ایجادات اور ان کے اثرات

News Image
موجودہ دور میں پہننے کے قابل گیجٹس کی دنیا تجرباتی مراحل اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی تو تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن یہ مصنوعات صارفین کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے تاحال جدوجہد کر رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں 'ویری ایبل' (Wearable) ڈیوائسز ایک ایسا شعبہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل ارتقا کے عمل سے گزر رہا ہے۔ تاہم، حالیہ تجزیات اور جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پہننے کے قابل یہ ٹیکنالوجی فی الحال ایک عجیب اور تجرباتی دور سے گزر رہی ہے۔ وکٹوریہ سانگ، جو کہ ایک معروف ٹیک تجزیہ کار ہیں، کے مطابق مارکیٹ میں آنے والے نئے گیجٹس کے بارے میں یہ دعویٰ تو کیا جاتا ہے کہ وہ انسانی زندگی کو یکسر تبدیل کر دیں گے، لیکن حقیقت میں ان کی افادیت ابھی تک محدود ہے۔ اس وقت ان مصنوعات کے ساتھ ایک طرح کا وجودی بحران جڑا ہوا ہے کہ آیا یہ محض فیشن کی اشیاء ہیں یا واقعی صحت اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے والے سنجیدہ آلات۔ نئی ایجادات اور سمارٹ گیجٹس کا ٹیسٹ کرنے والے ماہرین بتاتے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مارکیٹ میں ایسی کئی ڈیوائسز متعارف کرائی گئی ہیں جو جدید سینسرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ لیکن جب ان کا عملی استعمال کیا جاتا ہے، تو صارفین اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ڈیوائسز اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں بھی الجھن کا شکار ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی تک اپنے 'پائلٹ پروجیکٹ' کے مرحلے میں ہے جہاں وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ صارفین کو درحقیقت اپنی روزمرہ زندگی میں کس طرح کے ڈیٹا اور سہولیات کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ کمپنیاں مارکیٹ میں سبقت لے جانے کی دوڑ میں بہت سی ایسی مصنوعات لانچ کر رہی ہیں جنہیں ابھی مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ایک طرف تو ہم سمارٹ واچز اور ہیلتھ ٹریکرز کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف نئی قسم کے پہننے والے گیجٹس (Wearables) بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں جن کا مقصد زندگی کو آسان بنانا ہے۔ لیکن ان کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ ان کی 'استعمال میں آسانی' اور 'ڈیٹا کی درستگی' ہے۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ پہننے کے قابل ٹیکنالوجی کو اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے مزید پختگی کی ضرورت ہے۔ جب تک یہ گیجٹس صرف 'تجرباتی' اور 'عجیب و غریب' لگتے رہیں گے، تب تک عام صارفین انہیں اپنی زندگی کا مستقل حصہ نہیں بنائیں گے۔ اس شعبے میں کامیابی کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو محض فیچرز کی بھرمار کے بجائے، صارف کی اصل ضروریات پر توجہ دینی ہوگی تاکہ یہ ٹیکنالوجی محض ایک وقتی شوق کے بجائے ایک حقیقی ضرورت بن سکے۔