World
ٹرمپ کی ایران کے خلاف اقتصادی جنگ اور عالمی تجارت پر اثرات
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تجارتی شراکت داروں کو دھمکیاں دینے کے بعد عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو تنہا کرنے کی امریکی کوششوں کے نتائج عالمی معیشت کے لیے بھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس کا بنیادی مقصد تہران کو عالمی تجارتی نظام سے مکمل طور پر الگ کرنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے دھمکی دی ہے کہ جو ممالک ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھیں گے، انہیں بھی سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ اقدام دراصل 'اقتصادی جنگ' کی ایک نئی شکل ہے جس کے ذریعے امریکہ ایران کی تیل کی برآمدات اور دیگر مالیاتی ذرائع کو مسدود کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کرنا امریکہ کے لیے بھی ایک چیلنج ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے ایران پر انحصار کرتے ہیں۔
دوسری جانب تہران نے ٹرمپ کی ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'ناکام کوشش' قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکی معاشی جارحیت پہلے بھی ایران کے عزم کو متزلزل کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ ایران کا ماننا ہے کہ عالمی برادری، خاص طور پر چین اور دیگر ایشیائی منڈیاں، واشنگٹن کے یکطرفہ دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گی۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، کیونکہ اگر دنیا کے بڑے تجارتی ممالک امریکہ کے دباؤ میں آ کر ایران سے تعلقات توڑتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا نقصان بالآخر خود مغربی معیشتوں کو بھی ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کی اس سخت پالیسی کے پیچھے دراصل ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا یا حکومت کے ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم، تاریخ گواہ ہے کہ اقتصادی پابندیاں اکثر ممالک کو مزید خود کفیل بننے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر امریکہ اپنے اتحادیوں اور دیگر شراکت داروں کو ایران سے دور رکھنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں ایک طویل مدتی معاشی بحران جنم لے سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے پہلے سے ہی غیر مستحکم خطے کو مزید کشیدگی کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا ٹرمپ اپنی اس حکمت عملی پر قائم رہتے ہیں یا عالمی دباؤ کے سامنے انہیں اپنی پالیسیوں میں نرمی لانا پڑتی ہے۔