LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی ویسٹ بینک بستیوں کی توسیع پر عالمی برادری کے شدید تحفظات

News Image
مغربی طاقتوں اور کینیڈا نے مقبوضہ ویسٹ بینک میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے نئے منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل فوری طور پر ان توسیعی منصوبوں کو معطل کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور کینیڈا سمیت پانچ اہم مغربی ممالک اور کینیڈا نے مشترکہ طور پر اسرائیل کے مقبوضہ ویسٹ بینک میں بستیوں کو وسعت دینے کے حالیہ منصوبے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ یہ توسیعی اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس دباؤ کا مقصد اسرائیل کو ان متنازعہ علاقوں میں تعمیرات سے روکنا ہے جو اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اس مشترکہ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کا قیام دو ریاستی حل (Two-State Solution) کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے، جس پر عالمی برادری برسوں سے اتفاق کرتی آئی ہے۔ یورپی طاقتوں اور کینیڈا نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے مابین اعتماد سازی کے عمل کو ٹھیس پہنچتی ہے اور زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں حالات کو مزید کشیدہ کر رہی ہیں۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اسرائیل نے ان منصوبوں کو ترک نہ کیا تو اسے عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پیدا ہونے والی عالمی ناراضگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ویسٹ بینک کی جغرافیائی حیثیت اور سیاسی حساسیت عالمی طاقتوں کے لیے کس قدر اہم ہے۔ ماضی میں بھی ان بستیوں کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم حالیہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں کئی بڑے مغربی ممالک نے ایک آواز ہو کر اسرائیل کو خبردار کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ صورتحال آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر مزید گرمی پیدا کر سکتی ہے اور اسرائیل کو عالمی دباؤ کے پیش نظر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔ مذکورہ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ کارروائی سے گریز کرے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی جانب قدم بڑھائے۔ عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عالمی قوانین کا احترام کیا جائے اور ایسے اقدامات سے مکمل پرہیز کیا جائے جن سے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا تاثر ملتا ہو۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اسرائیل اپنے اتحادیوں کے اس شدید دباؤ کے بعد اپنے توسیعی منصوبوں کو معطل کرتا ہے یا نہیں۔