LIVE
Loading Breaking News...

احمد حسون دمشق عدالت فیصلہ بشار الاسد حکومت

News Image
شام کے معزول صدر بشار الاسد کے قریبی ساتھی اور بیرل بم مفتی کے نام سے مشہور احمد حسون کو دمشق کی ایک عدالت میں اہم عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے ملک کے سابقہ حکمران طبقے کی شخصیات کے خلاف احتساب کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
شام کے معزول صدر بشار الاسد کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے اور ’بیرل بم مفتی‘ کے طور پر بدنام شخص احمد حسون کو اب دمشق کی ایک عدالت میں اہم فیصلوں کا سامنا ہے۔ احمد حسون طویل عرصے تک شام کے بااثر مذہبی حلقوں میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے اور انہوں نے بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے اپوزیشن اور عام شہریوں کے خلاف کیے جانے والے پرتشدد اقدامات کی مبینہ طور پر مذہبی توجیہہ پیش کی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیانات کے ذریعے حکومتی کارروائیوں بالخصوص بیرل بموں کے استعمال کو جائز قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب جبکہ شام میں سیاسی اور عدالتی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے، سابقہ حکومت کے اہم کارندوں اور حامیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ دمشق کی عدالت میں احمد حسون کے خلاف یہ مقدمہ انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے یہ واضح ہوگا کہ نئی انتظامیہ بشار الاسد کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ کس قسم کا قانونی رویہ اختیار کرتی ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق، اس فیصلے سے شام کے مستقبل کے عدالتی نظام اور سیاسی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ احمد حسون کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو حکومت کے اندرونی حلقے کے انتہائی قریب تھے اور انہوں نے اندرون و بیرون ملک شامی حکومت کے پروپیگنڈے کو تقویت دی۔ ان کے بیانات کو ہمیشہ انتہائی متنازعہ قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے حکومت کی طرف سے ہونے والی تباہی اور خون خرابے کو مبینہ طور پر پسِ پشت ڈالتے ہوئے ریاستی مؤقف کی پرزور حمایت کی۔ اب دمشق کی عدالت میں ان کی پیشی اور ممکنہ فیصلہ شام کے حالیہ سیاسی بحران کے بعد احتساب کے عمل کی ایک بڑی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شامی عوام اور بین الاقوامی برادری اس مقدمے کے تمام مراحل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ انصاف کے تقاضے کیسے پورے کیے جاتے ہیں۔