World
الابیض سوڈان: جنگ کے سائے میں گھرے شہر کی مکمل صورتحال
سوڈان کے محصور شہر الابیض میں ہزاروں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی ہے جہاں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صحافیوں کی جانب سے شہر کو جانے والی سپلائی لائنز کا دورہ کیا گیا جس سے وہاں کی ابتر صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔
سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے باعث ملک کے مختلف شہر شدید متاثر ہوئے ہیں، جن میں الابیض کا شہر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ شہر نہ صرف ایک اہم تجارتی اور اسٹریٹجک مقام ہے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ بھی بن چکا ہے جو ملک کے دیگر پرتشدد علاقوں سے نقل مکانی کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ الابیض کے رہائشی اور یہاں پناہ لینے والے ہزاروں افراد گزشتہ کئی ماہ سے ایک طویل محاصرے کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔
حال ہی میں الجزیرہ کے نمائندے المقداد الرحید نے الابیض شہر کو جانے والی مرکزی سپلائی روڈ کا ایک خطرناک سفر طے کیا۔ اس دورے کا مقصد شہر میں موجود انسانی بحران کی اصل تصویر کشی کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سڑک کسی بھی وقت حملوں کی زد میں آ سکتی ہے اور یہاں سے گزرنا کسی بڑی مہم جوئی سے کم نہیں ہے۔ سپلائی لائنز پر جاری کشیدگی کی وجہ سے شہر میں نہ صرف خوراک کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے بلکہ ادویات اور ایندھن کا حصول بھی ناممکن کے قریب پہنچ چکا ہے، جس سے مقامی ہسپتالوں کا نظام بری طرح درہم برہم ہو گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر مختلف مسلح گروہوں کا دباؤ ہے، جس کی وجہ سے انسانی امداد پہنچانے والی گاڑیاں طویل عرصے تک رکی رہتی ہیں۔ اگرچہ کچھ امدادی سامان تک رسائی ممکن ہو پائی ہے، لیکن یہ ضرورت کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ شہر میں مقیم عام شہری اب بھی شدید خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، کیونکہ گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات آئے دن ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ الابیض کی موجودہ صورتحال سوڈان میں جاری انسانی المیے کی ایک تلخ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ہزاروں بے گناہ جانیں محض بنیادی انسانی ضروریات کی دستیابی کے منتظر ہیں۔
بین الاقوامی اداروں اور امدادی تنظیموں نے بارہا اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ محصور شہروں تک محفوظ راہداری فراہم کی جائے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے۔ تاہم، جاری سیاسی اور عسکری محاذ آرائی کی وجہ سے ان مطالبات پر عمل درآمد تاحال ایک خواب ہی نظر آتا ہے۔ الابیض کے باشندے اب صرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اس شہر کی بقا کا انحصار ان سپلائی راستوں کی بحالی پر ہے جنہیں طویل عرصے سے جنگ کے نذر کر دیا گیا ہے۔