Pakistan
نور مقدم قتل کیس: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ اور خواتین کے حقوق پر موقف
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد اور ان کی جان لینا الہامی تعلیمات اور قومی اقدار کے منافی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور فیمیسائیڈ (عورت کشی) پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے ایک تاریخی اور تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ معاشرے میں خواتین کے تحفظ، تکریم اور ان کے حقوق کی فراہمی کے لیے مثالی رویے کا مظاہرہ کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ خواتین کی تکریم کی پامالی محض قتل کے واقعات میں اضافہ نہیں بلکہ یہ الہامی قانون اور قومی اقدار سے کھلی غداری کے مترادف ہے۔ یہ مشاہدہ 12 صفحات پر مشتمل اس تفصیلی فیصلے میں کیا گیا جس کے ذریعے تین رکنی بنچ نے چار جون کو مجرم ظاہر جعفر کی نظر ثانی کی اپیل مسترد کر کے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔
فیصلے میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست دراصل اپیل کا دوسرا نام نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے زور دیا کہ نظر ثانی کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہے اور اسے صرف اسی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب ریکارڈ میں کوئی واضح غلطی موجود ہو۔ مجرم کی جانب سے اٹھائے گئے ذہنی بیماری کے دعوے کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے پاس ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جو اس دعوے کی تصدیق کر سکے۔ ایک پرانے طبی خط کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ مجرم نے علاج کے بعد مکمل صحت یابی حاصل کر لی تھی، لہذا اس بنیاد پر سزائے موت میں نرمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
عدالت نے پاکستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور 'فیمیسائیڈ' کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ خواتین کی زندگی کا خاتمہ اکثر اچانک ہونے والا واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک منظم اور صنفی بنیادوں پر مبنی تشدد کا تسلسل ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں ہزاروں خواتین اپنے قریبی ساتھیوں یا خاندان کے افراد کے ہاتھوں جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ یہ تلخ حقیقت اس فرسودہ تصور کو ختم کرتی ہے کہ خواتین اپنے گھروں میں سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔ اس کے برعکس، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نجی مقامات خواتین کے لیے اکثر غیر محفوظ ثابت ہوتے ہیں جہاں وہ تشدد اور ذہنی دباؤ کا سب سے زیادہ شکار ہوتی ہیں۔
عدالت عظمیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشرے کو خواتین کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔ نور مقدم کیس محض ایک قتل کا واقعہ نہیں بلکہ یہ عدالتی نظام کے لیے ایک امتحان تھا جس میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا گیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرے میں بڑھتا ہوا تشدد ایک خطرناک رجحان ہے جس کی روک تھام کے لیے صرف سخت سزائیں کافی نہیں بلکہ ایک سماجی اور فکری تبدیلی کی بھی ضرورت ہے تاکہ خواتین کو ایک باعزت اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔