LIVE
Loading Breaking News...

مہمند میں سرحد پار سے گولہ باری اور دھماکے سے ایک شخص جاں بحق

News Image
ضلع مہمند کی تحصیل بائیزئی میں سرحد پار سے ہونے والی شدید گولہ باری کے باعث مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ کسی جانی نقصان کی تاحال اطلاع نہیں ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند کی تحصیل بائیزئی میں جمعرات کے روز سرحد پار سے ہونے والی شدید گولہ باری نے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، شانڈرہ کے علاقے میں بھاری ہتھیاروں سے وقفے وقفے سے گولہ باری کی گئی، جس سے مقامی آبادی شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ اگرچہ اس گولہ باری کے محرکات کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم سیکیورٹی ادارے سرحد پر کشیدگی کے پیشِ نظر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ فروری کے اواخر میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن کے بعد سرحد پر اکثر و بیشتر کشیدگی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ اگرچہ اپریل کے اوائل میں چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے پر اتفاق ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود سرحدی علاقوں میں گولہ باری کے واقعات تسلسل کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی باجوڑ سمیت دیگر سرحدی اضلاع میں گولہ باری سے معصوم شہریوں کی شہادت کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جو خطے میں امن و امان کی نازک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ گولہ باری کے علاوہ، اسی دن بائیزئی تحصیل کے علاقے بیڈمانی میں ایک افسوسناک دھماکہ بھی پیش آیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ایک سڑک کے کنارے نصب بارودی مواد اس وقت پھٹ گیا جب ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد وہاں سے گزر رہے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کا بھتیجا شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دھماکے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا۔ حکام نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت اور اس کے محرکات کا تعین کیا جا سکے، تاہم اس واقعے کے ذمہ داروں اور مقاصد کے بارے میں فی الحال تحقیقات جاری ہیں۔