LIVE
Loading Breaking News...

بنسپتی گھی میں مضر صحت ٹرانس فیٹ کی موجودگی کا انکشاف

News Image
پاکستان کے مختلف شہروں سے جمع کیے گئے بنسپتی گھی کے 26 نمونوں میں صحت کے لیے مضر ٹرانس فیٹ کی شرح مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ٹرانس فیٹ کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں اور دیگر خطرناک طبی مسائل کا باعث بنتا ہے۔
پاکستان میں فوڈ سیفٹی کے حوالے سے ہونے والے حالیہ تجزیاتی ٹیسٹ میں بنسپتی گھی کے حوالے سے تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ملک کے مختلف بازاروں سے اکٹھے کیے گئے بنسپتی گھی کے 26 مختلف نمونوں کی لیبارٹری جانچ پڑتال کی گئی تو ان میں انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر تصور کیے جانے والے ٹرانس فیٹس (Trans-fats) کی مقدار مقررہ حد سے کہیں زیادہ پائی گئی۔ ٹرانس فیٹ ایک ایسی چکنائی ہے جو دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے جیسے مسائل کو تیزی سے جنم دیتی ہے، اور اس کا زائد مقدار میں استعمال انسانی شریانوں میں کولیسٹرول کے جمنے کا سبب بنتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت اور طبی ماہرین نے اس رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنسپتی گھی کے استعمال سے پہلے معیار کو جانچنا انتہائی ضروری ہے۔ ٹرانس فیٹس کا باقاعدگی سے استعمال جسم میں 'بیڈ کولیسٹرول' (LDL) کی سطح کو بڑھاتا ہے جبکہ 'گڈ کولیسٹرول' (HDL) کو کم کرتا ہے، جس سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والے گھی کے معیار کو بین الاقوامی فوڈ اسٹینڈرڈز کے مطابق لایا جا سکے۔ دوسری جانب، عام شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوڈ اتھارٹیز کو مزید متحرک کرے تاکہ عوام کو ملاوٹ اور غیر معیاری چکنائی سے پاک اشیائے خوردونوش فراہم کی جا سکیں۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ ٹرانس فیٹ سے بچنے کے لیے گھی اور تیل کا استعمال کم سے کم کریں اور کھانا پکانے کے لیے قدرتی ذرائع جیسے زیتون کے تیل یا سرسوں کے تیل کو ترجیح دیں۔ حکومت کی جانب سے اب ان کمپنیوں کے خلاف سخت ضابطہ اخلاق مرتب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جن کے تیار کردہ نمونے ٹیسٹ میں غیر معیاری ثابت ہوئے ہیں۔