LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں غیر قانونی کال سینٹرز کیخلاف سخت کارروائی شروع

News Image
پاکستان بھر میں فعال غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ملک گیر سطح پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد دھوکہ دہی، ڈیٹا چوری اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔
پاکستان میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم اور شہریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کے واقعات کے پیش نظر، حکومتی اداروں نے ملک بھر میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان مراکز کی نشاندہی کر لی ہے جو بغیر کسی لائسنس کے کام کر رہے تھے اور شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ یہ کال سینٹرز اکثر غیر ملکی شہریوں یا مقامی لوگوں کو پرکشش انعامات یا بینک ڈیٹیلز حاصل کرنے کے بہانے لوٹنے میں مصروف تھے۔ اس آپریشن کے دوران حکام نے متعدد مقامات پر چھاپے مار کر اہم شواہد اور ریکارڈ قبضے میں لے لیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کال سینٹرز انتہائی جدید آلات اور سافٹ ویئر کا استعمال کر رہے تھے تاکہ اپنی اصلی شناخت کو چھپا کر لوگوں کو جھوٹے فون کالز کے ذریعے گمراہ کیا جا سکے۔ ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی ملوث شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ کارروائی کا مقصد نہ صرف ان غیر قانونی نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے بلکہ ملک میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کو بھی بہتر بنانا ہے۔ اس کریک ڈاؤن سے ان تمام شہریوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ایسی جعلی کالز سے تنگ آ چکے تھے جن میں ان سے بینک اکاؤنٹ کی معلومات یا پرسنل ڈیٹا طلب کیا جاتا تھا۔ حکومتی حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم نمبر سے آنے والی کال پر اپنی ذاتی یا مالی معلومات شیئر نہ کریں۔ وزارت داخلہ نے اس ضمن میں ایک مربوط لائحہ عمل مرتب کیا ہے جس کے تحت مستقبل میں بھی ایسے مراکز کی کڑی نگرانی کی جائے گی تاکہ کوئی بھی ادارہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوام کی نجی زندگی میں مداخلت نہ کر سکے۔ مزید برآں، قانونی لائسنس یافتہ کال سینٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو شفاف رکھیں تاکہ ان کے کاروبار پر کوئی آنچ نہ آئے۔ حکومت کی جانب سے اس کریک ڈاؤن کو پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس آپریشن کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا جس میں مختلف شہروں میں چھپے ہوئے نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ ملک میں سائبر جرائم کی شرح کو کم سے کم کیا جا سکے۔