LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی مقبولیت میں کمی کی وجوہات اور عوامی خدشات

News Image
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیز رفتار پیش رفت کے باوجود عام لوگوں میں اس کا تاثر مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ مختلف رپورٹس اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات نے اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے حوالے سے دنیا بھر میں جس جوش و خروش کا اظہار کیا جا رہا تھا، حالیہ اعداد و شمار اور رپورٹس بتاتی ہیں کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز پیش رفت کے باوجود، عام لوگوں کے ذہنوں میں اے آئی کی ساکھ دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ٹیک کرنچ اور دیگر معتبر عالمی ذرائع کے مطابق، مصنوعی ذہانت اب لوگوں کو اپنی افادیت سے قائل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جس کی بڑی وجہ ڈیٹا کی پرائیویسی، ملازمتوں کے خطرات اور سیاسی غلط استعمال کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، نیشنل ریپبلکن سینیٹوریل کمیٹی نے ایک میمو جاری کیا ہے جس میں اے آئی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ نہ صرف عام صارف بلکہ سیاسی حلقے بھی مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے پر تو اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، مگر انسانی سطح پر اس کے اثرات اور اخلاقی پہلوؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اب اس ٹیکنالوجی کو کسی نعمت کے بجائے ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا مزید ماننا ہے کہ اے آئی کے حوالے سے پایا جانے والا عدم اعتماد صرف ایک وقتی ردعمل نہیں ہے بلکہ یہ اس ٹیکنالوجی کے 'بلیک باکس' ہونے کی وجہ سے ہے۔ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ان کا ڈیٹا کیسے استعمال ہو رہا ہے اور اے آئی کے فیصلے کتنے شفاف ہیں۔ جب تک کمپنیاں شفافیت کو یقینی نہیں بناتیں اور عوام کو اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور تحفظات کے بارے میں مطمئن نہیں کرتیں، تب تک مصنوعی ذہانت کو عوامی مقبولیت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ ٹیکنالوجی اپنا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کر پائے گی یا اس کا اثر محدود ہو کر رہ جائے گا۔