LIVE
Loading Breaking News...

ایکسپڈیشن 75: خلائی چہل قدمی کے بعد اہم سائنسی تحقیق جاری

News Image
ایکسپڈیشن 75 کے عملے نے حال ہی میں کی گئی خلائی چہل قدمی کے بعد خلائی اسٹیشن پر صفائی کے امور مکمل کر لیے ہیں۔ خلاباز اب دوبارہ مائیکرو گریویٹی میں انسانی دوران خون اور دیگر سائنسی تجربات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (ISS) پر موجود ایکسپڈیشن 75 کے عملے نے بدھ کے روز ایک انتہائی اہم اور مصروف دن گزارا۔ حال ہی میں کی گئی خلائی چہل قدمی (spacewalk) کے دوران، دو خلابازوں نے اسٹیشن کے بیرونی حصے سے ایک پرانا اینٹینا کامیابی کے ساتھ ان انسٹال کیا تھا۔ یہ مشن خلائی اسٹیشن کے مواصلاتی نظام کو جدید بنانے کے عمل کا ایک اہم حصہ تھا، جسے کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد بدھ کا دن صفائی اور سامان کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے وقف کیا گیا۔ عملے نے خلائی چہل قدمی میں استعمال ہونے والے تمام آلات اور خصوصی ملبوسات کی مکمل جانچ پڑتال کی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ آئندہ کسی بھی مشن کے لیے مکمل طور پر محفوظ اور فعال حالت میں ہیں۔ صفائی کے ان امور کے بعد، ایکسپڈیشن 75 کے خلابازوں نے بلا تاخیر اپنے بنیادی سائنسی تحقیقی کاموں کی جانب واپسی کی۔ خلائی اسٹیشن پر موجود لیبارٹری میں مائیکرو گریویٹی (صفر کشش ثقل) کے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد تجربات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم تجربہ انسانی دورانِ خون کے نظام کا مطالعہ ہے۔ سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ طویل مدت تک خلائی ماحول میں رہنے سے انسانی جسم کے قلبی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ تحقیق نہ صرف مستقبل کے طویل مدتی خلائی مشنز کے لیے اہم ہے بلکہ زمین پر موجود مریضوں کے علاج کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، عملے نے مائیکرو گریویٹی کے تحت ہونے والے دیگر حیاتیاتی اور طبعی تجربات میں بھی حصہ لیا۔ خلائی اسٹیشن کا ماحول، جہاں کشش ثقل کا اثر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، ماہرین کو ایسے تجربات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو زمین پر ممکن نہیں ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج سے خلائی سفر کے دوران انسانی صحت کو لاحق خطرات کو کم کرنے اور بہتر ادویات تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ ایکسپڈیشن 75 کا عملہ مسلسل ان سائنسی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے جو بین الاقوامی خلائی تحقیق کو ایک نئی سطح پر لے جانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خلائی ایجنسیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکسپڈیشن 75 کا یہ مشن نہ صرف تکنیکی اعتبار سے بلکہ طبی تحقیق کے لحاظ سے بھی انتہائی کامیاب رہا ہے۔ اسٹیشن کے عملے کا نظم و ضبط اور ٹیم ورک اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکل ترین خلائی حالات میں بھی انسانی عزم کس طرح سائنسی کامیابیوں کو ممکن بنا سکتا ہے۔ اگلے کچھ دنوں میں عملہ مزید پیچیدہ تجربات کی تیاری کرے گا، جس میں خلائی اسٹیشن کی دیکھ بھال کے علاوہ مختلف سائنسی لیبارٹریز میں ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ بھی شامل ہوگا۔