LIVE
Loading Breaking News...

پرندوں کے ارتقا اور موسمیاتی تبدیلیوں پر AI کی نئی تحقیق

News Image
مصنوعی ذہانت کی مدد سے کی گئی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پرندوں کا ارتقا بتدریج نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر تیز رفتار تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ سائنسدانوں نے ہزاروں نمونوں کا تجزیہ کر کے ثابت کیا ہے کہ پرندوں کے ڈھانچوں میں 45 ملین سالہ ارتقائی عمل کا براہ راست تعلق زمین کے بدلتے ہوئے درجہ حرارت سے ہے۔
پرندوں کے ارتقائی عمل اور ان کے جسمانی ڈھانچوں میں آنے والی تبدیلیوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم تحقیق سامنے آئی ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) نے ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔ ماہرین نے اس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں عجائب گھروں میں موجود پرندوں کے ڈھانچوں کا باریکی سے تجزیہ کیا ہے۔ اس تحقیق سے یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ پرندوں کا ارتقا گزشتہ 45 ملین سالوں کے دوران بتدریج نہیں بلکہ موسمیاتی بحرانوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے تابع رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز نے لاکھوں پیمائشوں کا موازنہ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ پرندوں کی جسامت اور ہڈیوں کی ساخت میں آنے والی تبدیلیاں زمین کے بدلتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، تاریخی اعتبار سے زمین پر رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں صرف کرہ ارض کے درجہ حرارت کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ یہ جانداروں کی حیاتیاتی ساخت میں بھی تیزی لانے کا سبب بنتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پرندوں کی مختلف نسلوں نے جب ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کیا تو ان کے ارتقائی عمل میں غیر معمولی تیزی آئی۔ یہ عمل پرانے نظریات کے برعکس ہے جو یہ کہتے تھے کہ ارتقا ہمیشہ ایک سست اور مسلسل عمل ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاصل کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پرندوں نے اپنے آپ کو شدید موسمی حالات میں زندہ رکھنے کے لیے اپنی جسمانی ساخت میں حیران کن تبدیلیاں پیدا کیں۔ یہ مطالعہ ارتقائی حیاتیات کے میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں اتنی بڑی تعداد میں ڈیٹا کا تجزیہ انسانی بصارت کے لیے ممکن نہیں تھا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے نہ صرف ڈھانچوں کی پیمائش میں دقت پیدا کی بلکہ ان تغیرات کو بھی پہچان لیا جو کسی بڑے موسمی واقعے کے بعد رونما ہوئے۔ یہ تحقیق اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت جانوروں کی انواع کے تحفظ اور ان کے معدوم ہونے کے خطرات کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ آخر میں، سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر ہم آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی آب و ہوا کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ماضی کے ان ارتقائی نمونوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ پرندوں کے ڈھانچوں میں 45 ملین سالوں پر محیط یہ ریکارڈ ہمیں بتاتا ہے کہ فطرت کس طرح خود کو زندہ رکھنے کے لیے تبدیل کرتی ہے۔ یہ تحقیق پرندوں کی تنوع اور ان کے بقا کے سفر کو سمجھنے کے لیے ایک نئی بصیرت فراہم کرتی ہے جو آنے والے وقتوں میں حیاتیاتی سائنس کے شعبے میں مزید تحقیق کی بنیاد بنے گی۔