LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پہلی فیچر فلم 'دی کُلی ہل بوائز' کا تعارف

News Image
ہگزفیلڈ اے آئی نامی اسٹارٹ اپ نے دنیا کی پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ 110 منٹ طویل فیچر فلم پیش کی ہے۔ یہ فلم لائسنس یافتہ مشہور شخصیات کی شبیہہ استعمال کرتے ہوئے تیار کی گئی ہے جس کا بجٹ 2 ملین ڈالر ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ہگزفیلڈ اے آئی (Higgsfield AI) نامی اسٹارٹ اپ نے دنیا کی پہلی مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ 110 منٹ طویل ایکشن کامیڈی فیچر فلم 'دی کُلی ہل بوائز' (The Cully Hill Boys) پیش کر دی ہے۔ یہ فلم ہالی وڈ اور فلم سازی کی صنعت میں ایک بڑے تکنیکی تغیر کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ اس میں کرداروں کی حرکات و سکنات اور مکالموں کی ادائیگی کے لیے مکمل طور پر اے آئی ماڈلز کا استعمال کیا گیا ہے۔ فلم کے پروڈیوسرز کے مطابق، اس پروجیکٹ کا کل بجٹ 2 ملین ڈالر تھا جس میں سے نصف رقم یعنی 1 ملین ڈالر صرف اے آئی ٹوکنز اور پروسیسنگ پاور کے حصول پر خرچ کی گئی۔ اس فلم کی ایک اہم خصوصیت اس میں لائسنس یافتہ مشہور شخصیات کی شبیہہ (Likeness) کا استعمال ہے۔ ہگزفیلڈ اے آئی نے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان فنکاروں کے حقوق حاصل کیے جن کی شکل و صورت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے اسکرین پر زندہ کیا گیا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے وقتوں میں فلم ساز روایتی سیٹ، کیمروں اور بڑے عملے کے بغیر بھی ہائی کوالٹی سنیما تخلیق کر سکیں گے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی نے تخلیقی آزادی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، لیکن ناقدین اس بات پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ کیا اے آئی سے تیار کردہ مواد انسانی جذبات اور فنکارانہ باریکیوں کی جگہ لے سکے گا؟ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 'دی کُلی ہل بوائز' کا تجربہ فلم سازی کے مستقبل کے لیے ایک نمونہ ثابت ہوگا۔ اس فلم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب کم وسائل اور اے آئی سافٹ ویئر کی مدد سے پیچیدہ ایکشن مناظر اور مزاحیہ اداکاری کو اسکرین پر لانا ممکن ہو چکا ہے۔ ہگزفیلڈ اے آئی کی اس پیش رفت سے ان خدشات نے بھی جنم لیا ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اداکاروں اور دیگر فلمی عملے کے روزگار کو متاثر کرے گی۔ تاہم، پروڈکشن ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں کی متبادل نہیں بلکہ تخلیق کاروں کے لیے ایک نیا اور طاقتور ذریعہ ہے جس سے فلم سازی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔