Health
کیر کلاؤڈ ڈیٹا بریچ: لاکھوں مریضوں کا ڈیٹا ہیک ہو گیا
صحت کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنی کیر کلاؤڈ نے تصدیق کی ہے کہ ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں لاکھوں مریضوں کا ڈیٹا چوری ہو گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ہیکر نے ان کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ سسٹم تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔
صحت کی دیکھ بھال کرنے والی معروف سافٹ ویئر کمپنی 'کیر کلاؤڈ' (CareCloud) نے حال ہی میں ایک بڑے ڈیٹا بریچ کی تصدیق کی ہے، جس سے لاکھوں مریضوں کی حساس معلومات خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ کمپنی کی جانب سے امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات کو جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق، اس سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً 37 لاکھ 56 ہزار 469 افراد کا ڈیٹا لیک ہوا ہے۔ یہ واقعہ طبی ریکارڈ کی حفاظت کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ایک نامعلوم ہیکر نے کمپنی کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کے انفراسٹرکچر میں نقب لگائی اور تقریباً آٹھ گھنٹے تک اس سسٹم تک رسائی برقرار رکھی۔ اس دوران ہیکر نے مریضوں کی ذاتی اور طبی معلومات تک رسائی حاصل کر لی، جس میں ممکنہ طور پر ان کی بیماریوں کی تاریخ، ذاتی کوائف اور علاج معالجے سے متعلق دیگر اہم دستاویزات شامل ہو سکتی ہیں۔ کمپنی کی جانب سے اس واقعے کی تصدیق کے بعد متعلقہ حکام کو مطلع کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں اس طرح کی ہیکنگ کے واقعات نہ صرف مریضوں کی پرائیویسی کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ یہ بڑے پیمانے پر مالی اور طبی دھوکہ دہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ کیر کلاؤڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں اور مستقبل میں ایسے حملوں کو روکنے کے لیے اپنی سکیورٹی لیئرز کو مزید سخت کر رہے ہیں۔ کمپنی نے متاثرہ مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے کریڈٹ کارڈز اور دیگر آن لائن اکاؤنٹس کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن یا فراڈ سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ ڈیجیٹل دور میں طبی ریکارڈ کا آن لائن ہونا جہاں سہولت کا باعث ہے، وہیں اس کا ہیک ہونا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر طبی اداروں کے آئی ٹی انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور سائبر سکیورٹی کے پروٹوکولز پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی اب مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صحت کے اداروں کے لیے ڈیٹا سکیورٹی کے سخت ترین قوانین کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔