Business
انفراسٹرکچر منصوبوں میں ہنر مند افراد کی کمی کا بحران: خواتین رہنماؤں کا انتباہ
انفراسٹرکچر سیکٹر کی اہم خواتین رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ ہنر مند افرادی قوت کی شدید کمی نیوزی لینڈ کے 200 ارب ڈالر کے توسیعی منصوبوں کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین نے اس بحران سے نمٹنے کیلئے شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھانے اور روایتی سوچ کو تبدیل کرنے پر زور دیا ہے۔
انفراسٹرکچر کے شعبے سے وابستہ ممتاز خواتین رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں انتباہ جاری کیا ہے کہ ماہر افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی قلت ملک کے 200 ارب ڈالر مالیت کے انفراسٹرکچر پائپ لائن منصوبوں کیلئے شدید خطرہ بن چکی ہے۔ اوریکو (Aureco) کی چیف ایگزیکٹو ٹریسی ریان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کو عالمی معیار کا انفراسٹرکچر ملک بنانے کیلئے اپنی سوچ کے محور کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف مالی سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ ان تکنیکی ماہرین پر ہے جو ان منصوبوں کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ تعمیراتی اور انجینئرنگ کے شعبے میں طویل عرصے سے جاری صنفی تفاوت اور ہنر مندوں کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ موجودہ دور میں بڑے پیمانے پر ہونے والے ترقیاتی کاموں کیلئے جس طرح کی تکنیکی مہارت درکار ہے، اس کی فراہمی میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ ادارے تاحال ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ٹریسی ریان اور دیگر رہنماؤں نے نشاندہی کی ہے کہ اگر اس خلا کو پر نہ کیا گیا تو نہ صرف منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ ان کی تکمیل میں بھی کئی سالوں کی تاخیر ہو سکتی ہے جو کہ ملکی معیشت کیلئے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
اس مسئلے کے حل کیلئے انفراسٹرکچر سیکٹر میں خواتین کی شرکت کو فروغ دینا ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی، ڈیزائن اور انجینئرنگ کے شعبوں میں خواتین کو زیادہ مواقع فراہم کیے جائیں تو افرادی قوت کی کمی کو کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کیلئے کام کے ماحول کو بہتر بنانے اور خواتین کو قیادت کے کرداروں تک پہنچانے کیلئے منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایسے تربیتی پروگراموں کا اجرا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے جو نئی نسل کو جدید انجینئرنگ اور مینجمنٹ کی مہارتوں سے لیس کر سکیں۔
آخر میں، ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انفراسٹرکچر صرف سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو ملک کی مستقبل کی معاشی مضبوطی کی بنیاد رکھتا ہے۔ اگر ہم آج اپنی ورک فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار نہیں کرتے تو کل کے بڑے اہداف کا حصول ممکن نہیں رہے گا۔ اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک ایسی قومی پالیسی ترتیب دینی ہوگی جس میں ہنر مند افراد کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور شعبے کو درپیش بحران سے نکالا جا سکے۔