Education
امریکی محقق ناتھن کوفناس کو سرقہ الزامات کے بعد یونیورسٹی سے معطلی کا سامنا
برطانوی یونیورسٹی نے کیمبرج کے پروفیسر جیسن آرڈے کے خلاف سرقہ کے الزامات عائد کرنے والے امریکی محقق ناتھن کوفناس کو معطل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد تعلیمی حلقوں میں علمی ایمانداری اور اختلاف رائے کے حقوق پر بحث چھڑ گئی ہے۔
برطانیہ کی ایک معروف یونیورسٹی نے ناتھن کوفناس نامی امریکی ماہر تعلیم کو معطل کر دیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر جیسن آرڈے پر علمی سرقہ (plagiarism) کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ اس معطلی کے فیصلے نے اکیڈمک حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں ایک طرف علمی ایمانداری کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ماہرین تعلیم کے اظہار رائے کی آزادی اور ان کے نظریات پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تاحال اس معطلی کی ٹھوس وجوہات پر تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم اسے ان کے حالیہ تنازعات سے جوڑا جا رہا ہے۔
ناتھن کوفناس، جو کہ 'ڈی ای آئی' (DEI) یعنی تنوع، مساوات اور شمولیت کے تصورات کے سخت ناقد کے طور پر جانے جاتے ہیں، پہلے بھی اپنے متنازع خیالات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔ سن 2024 میں، کوفناس کو کیمبرج یونیورسٹی سے ان کے نسلی نظریات اور مبینہ متنازع خیالات کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس نئی معطلی نے تعلیمی دنیا کے ان مباحث کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے جن میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا یونیورسٹیوں کو اپنے پروفیسرز اور محققین کی جانب سے پیش کردہ تحقیقی تنقید کو برداشت کرنا چاہیے یا اگر وہ تنقید کسی کے کیریئر کو نقصان پہنچائے تو اسے تادیبی کارروائی کا نشانہ بنانا چاہیے۔
دوسری جانب جیسن آرڈے، جن پر کوفناس نے سرقہ کا الزام لگایا تھا، خود کیمبرج یونیورسٹی میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اور وہ سماجی انصاف اور تعلیم کے شعبے میں اپنی خدمات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ آرڈے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ الزامات محض ایک انتقامی کارروائی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ایک کامیاب تعلیمی شخصیت کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے واقعات تعلیمی اداروں میں تحقیقی ماحول کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ فی الحال، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا کوفناس کی معطلی مستقل ہوتی ہے یا یہ محض ایک وقتی اقدام ہے۔