LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل نے امریکی یہودی کارکن کے داخلے پر پابندی عائد کر دی

News Image
ایک یہودی نژاد امریکی کارکن نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے ان کے دوبارہ داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کارکن نے اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کو ریاستی دہشت گردی کا نام دیا ہے۔
ایک یہودی نژاد امریکی انسانی حقوق کے کارکن کو اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ساتھ کام کرنے کی پاداش میں دوبارہ ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یہودی آباد کاروں کے پرتشدد واقعات پر عالمی برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ کارکن کا کہنا ہے کہ ان کی آواز کو دبانے کے لیے اسرائیل کی جانب سے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تاکہ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے آنے سے روکا جا سکے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کارکن نے واضح طور پر اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے تشدد کو 'ریاستی دہشت گردی' قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی ریاست نہ صرف آباد کاروں کی پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ ان کے مظالم کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ کارکن کے مطابق، فلسطینی علاقوں میں سرگرم کارکنوں کے خلاف اس طرح کی پابندیاں دراصل ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں تاکہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرنے والوں کو خاموش کیا جا سکے۔ اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کے بعد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی یہ پالیسی جمہوری اقدار کے منافی ہے اور یہ ان تمام آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھتی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اس قسم کی پابندیاں ماضی میں بھی خبروں کا حصہ بنتی رہی ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی حمایت کرنا اسرائیل کی نظر میں ایک سنگین جرم بن چکا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے اقدامات سے خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی ادارے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور کارکنوں کو ان کے پرامن کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک شخص کے داخلے پر پابندی کا معاملہ ہے، بلکہ یہ اس وسیع تر بحران کی عکاسی کرتا ہے جو برسوں سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری ہے۔