LIVE
Loading Breaking News...

گینٹ یونیورسٹی کا جیسن آرڈے تنازعہ پر ایک اور پروفیسر کے خلاف بڑا اقدام

News Image
بیلجیم کی گینٹ یونیورسٹی نے ایک پروفیسر کو اس وقت معطل کر دیا جب انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر جیسن آرڈے کی تعلیمی اہلیت پر سوالات اٹھائے۔ اس واقعے کے بعد تعلیمی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
بیلجیم کی معروف گینٹ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک سخت اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے ایک ماہر تعلیم کو معطل کر دیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر جیسن آرڈے کی تعلیمی قابلیت اور تقرری پر عوامی سطح پر سوالات اٹھائے تھے۔ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ استاد کا رویہ یونیورسٹی کے ضابطہ اخلاق کے منافی تھا، جس کی وجہ سے یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔ پروفیسر جیسن آرڈے جو کہ اپنی سماجی خدمات اور علمی میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، اس تنازعے کے مرکز میں آ گئے ہیں جس نے یورپی تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں علمی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے، تاہم کسی بھی شخصیت کی اہلیت پر نازیبا یا غیر تصدیق شدہ سوالات اٹھانا ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ معطل ہونے والے ماہر تعلیم نے اپنے سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر جیسن آرڈے کی تعلیمی کامیابیوں کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد طلبہ تنظیموں اور فیکلٹی ممبران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ دوسری جانب علمی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا یہ اقدام اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہے یا پھر ایک تعلیمی ادارے کا اپنے وقار کو بحال رکھنے کا ایک جائز طریقہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یونیورسٹی کی اس کارروائی سے تعلیمی میدان میں اخلاقی حدود کا تعین کرنے میں مدد ملے گی، تاہم ناقدین اسے اختلاف رائے کو دبانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری رہیں گی اور اس دوران معطل شدہ استاد کو اپنے دفاع کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹیوں میں تعلیمی اہلیت اور تنوع کے موضوعات پر کافی بحث کی جا رہی ہے۔ گینٹ یونیورسٹی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ایک شفاف کمیٹی تشکیل دے رہی ہے جو تمام شواہد کا جائزہ لے گی تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی متنازع واقعے سے بچا جا سکے۔ فی الحال پروفیسر جیسن آرڈے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے اور وہ اپنی تدریسی مصروفیات میں مصروف ہیں۔