LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ لینڈ فٹ بال میں جدید فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا تعارف

News Image
اسکاٹ لینڈ کے پولیس واچ ڈاگ نے فٹ بال اسٹیڈیمز میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے لائیو فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز دی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کرائم میں ملوث افراد کی فوری شناخت ممکن ہوگی۔
اسکاٹ لینڈ کے پولیس واچ ڈاگ نے تجویز دی ہے کہ فٹ بال کے میدانوں میں بڑھتی ہوئی ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لیے 'لائیو فیشل ریکگنیشن' یعنی چہرے کی شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں 'ہر میجسٹی چیف انسپکٹر آف کانسٹیبلری' کریگ نیلر کا کہنا ہے کہ فٹ بال کے میچوں کے دوران ہونے والی بدامنی اور شائقین کی طرف سے قانون شکنی کے واقعات کو روکنے کے لیے اب روایتی سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام کو اپنانا ضروری ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو شناخت کرنے میں پولیس کی مددگار ثابت ہوگی۔ اس نئے سیکیورٹی منصوبے کے تحت اسٹیڈیمز کے داخلی اور خارجی راستوں پر لائیو کیمرے نصب کیے جائیں گے جو ہجوم میں موجود ایسے افراد کے چہروں کو فوری طور پر اسکین کریں گے جو ماضی میں کرمنل ریکارڈ رکھتے ہیں یا جن پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد فٹ بال میچوں کو خاندانوں اور عام شائقین کے لیے محفوظ بنانا ہے۔ کریگ نیلر نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی ترقی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ان ہجوم والے مقامات پر جہاں انسانی آنکھ ہر مشتبہ فرد کو پہچاننے میں ناکام رہتی ہے۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کے نفاذ کے ساتھ ہی پرائیویسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ لائیو فیشل ریکگنیشن کا استعمال شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اس خدشے کے جواب میں پولیس حکام کا موقف ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت کے ساتھ کیا جائے گا اور اس کے لیے سخت قانونی قواعد و ضوابط بنائے جائیں گے تاکہ کسی بھی شہری کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ حکام کے مطابق اس نظام کا تجربہ کامیاب ہونے کے بعد اسے ملک بھر کے بڑے فٹ بال اسٹیڈیمز میں مستقل طور پر نصب کر دیا جائے گا۔ اس اقدام کو فٹ بال کی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر اسکاٹ لینڈ کا یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو دیگر یورپی ممالک میں بھی اس ماڈل کو اپنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ کھیل کے میدانوں میں تشدد کا خاتمہ نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ اس سے کھیل کی روح کو بھی تقویت ملے گی۔ پولیس انتظامیہ اب تکنیکی ماہرین کے ساتھ مل کر اس پروجیکٹ کے عملی پہلوؤں پر کام کر رہی ہے تاکہ جلد از جلد اسے عملی جامہ پہنایا جا سکے۔