Technology
کالج داخلوں میں اے آئی کا استعمال اور اس کے نقصانات
تعلیمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کالج داخلوں میں اے آئی کے بے جا استعمال سے طلبا کی ذاتی شناخت متاثر ہو رہی ہے۔ طلبا کی تحریریں اب ایک جیسی اور مشینی محسوس ہونے لگی ہیں جو داخلہ کمیٹیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
آج کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) صرف ٹیکنالوجی کی دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ تعلیمی شعبے بالخصوص کالج داخلوں کے عمل میں بھی ایک انقلابی کردار ادا کر رہی ہے۔ تعلیمی تحقیق کرنے والی معروف فرم ای اے بی (EAB) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، والدین اور طلبا بڑی تعداد میں اپنے داخلہ فارمز اور مضامین (essays) کی تیاری کے لیے اے آئی ٹولز کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی جہاں وقت بچانے اور مواد کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے، وہیں اس نے تعلیمی ماہرین کی تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کردہ تحریریں اکثر ایک ہی ڈھرے پر چلتی ہیں، جس سے طلبا کی اپنی اصل آواز اور شخصیت کہیں گم ہو جاتی ہے۔
کالج داخلہ کمیٹیاں اب ان درخواستوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو کسی روبوٹک پروگرام کے ذریعے لکھی گئی ہوں۔ ماہرین کے مطابق، جب ہزاروں طلبا ایک ہی طرح کے اے آئی ماڈلز کا استعمال کرتے ہیں، تو ان کے لکھے ہوئے مضامین میں غیر معمولی مماثلت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو 'کلوننگ' کا نام دیا جا رہا ہے، جہاں ہر طالب علم کی کہانی ایک جیسی، یکساں اور جذبات سے عاری محسوس ہوتی ہے۔ داخلہ افسران کا ماننا ہے کہ کالج کے لیے سب سے اہم چیز طالب علم کی اپنی انفرادیت، زندگی کے تجربات اور ان کی اپنی سوچ کا اظہار ہوتا ہے، جو اے آئی کے استعمال سے مکمل طور پر معدوم ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے کے تدارک کے لیے تعلیمی ماہرین طلبا کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اے آئی کو صرف معاونت کے لیے استعمال کریں نہ کہ اپنی جگہ لکھنے کے لیے۔ ایک بہترین داخلہ درخواست وہ ہے جس میں طالب علم کی ذاتی جدوجہد، ان کے خواب اور ان کے خیالات نمایاں ہوں۔ اگر طلبا اے آئی پر مکمل انحصار کرتے رہیں گے تو داخلہ کمیٹیوں کے سامنے وہ اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہیں گے، کیونکہ یونیورسٹیوں کو ایک جیسی سوچ رکھنے والی مشینی تحریریں نہیں بلکہ ایسے تخلیقی ذہن درکار ہیں جو منفرد ہوں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک طاقتور ٹول ضرور ہے، لیکن یہ انسانی تجربات کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ کالج داخلوں کے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے طلبا کو اخلاقی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔ یونیورسٹیوں کی جانب سے بھی اب ایسی پالیسیاں ترتیب دی جا رہی ہیں جن کے ذریعے طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو جانچا جا سکے گا، تاکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی انسان کی اپنی قابلیت کو ہی فوقیت دی جائے اور تعلیمی معیار برقرار رہے۔