LIVE
Loading Breaking News...

فلموں کے ٹکٹ بلیک میں بکنے کا معاملہ: کیا شائقین کو گھبرانا چاہیے؟

News Image
حال ہی میں فلمی ٹکٹوں کی ایڈوانس فروخت اور بلیک مارکیٹنگ کے رجحان نے شائقین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وقتی مسائل ہیں اور فلم بینوں کو اس حوالے سے زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
آج کل فلموں کے ٹکٹ ان کی ریلیز سے کئی ماہ قبل ہی ایڈوانس میں بک ہونے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں جب کرسٹوفر نولن جیسے بڑے ہدایت کاروں کی فلمیں ریلیز ہونے والی ہوتی ہیں، تو ٹکٹوں کی بلیک مارکیٹنگ یا مہنگے داموں فروخت ایک عام مسئلہ بن کر سامنے آتی ہے۔ حال ہی میں فلم 'دی اوڈیسی' کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کے ٹکٹ ریلیز سے ایک سال پہلے ہی بکنگ کے لیے دستیاب کر دیے گئے تھے۔ اس طرح کے رجحانات نے عام شائقین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا اب عام آدمی کے لیے سینما ہال تک پہنچنا ممکن رہے گا یا نہیں۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ ایک وقتی اور عارضی صورتحال ہے جس سے بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹکٹوں کی سکالپنگ یا بلیک مارکیٹنگ کا رجحان اگرچہ ناپسندیدہ ہے، لیکن مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق یہ ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ جب بڑی فلمیں آتی ہیں تو مانگ میں اضافے کی وجہ سے عارضی طور پر قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اور شوز کی تعداد بڑھائی جاتی ہے، یہ بلیک مارکیٹنگ کا دباؤ خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر سینما مالکان اور پروڈکشن ہاؤسز بھی اب ایسے سیکیورٹی اور ڈیجیٹل سسٹم متعارف کروا رہے ہیں جن سے ٹکٹوں کی غیر قانونی فروخت کو کنٹرول کرنا آسان ہو گیا ہے۔ اس لیے شائقین کو ٹکٹ نہ ملنے کے خوف میں مبتلا ہو کر غیر قانونی ذرائع کا سہارا لینے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ مزید برآں، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ فلم انڈسٹری کا کاروبار بنیادی طور پر عوامی رسائی پر منحصر ہے۔ اگر ٹکٹ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گے تو فلموں کی مجموعی کمائی پر اثر پڑے گا، جسے کوئی بھی پروڈکشن کمپنی برداشت نہیں کرنا چاہے گی۔ اس لیے، مستقبل میں ہم دیکھیں گے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر مزید سختیاں اور قواعد و ضوابط لاگو ہوں گے تاکہ ہر شخص کو ٹکٹ مناسب قیمت پر مل سکے۔ مجموعی طور پر، اگر آپ کسی بڑی فلم کے لیے پرجوش ہیں، تو صبر سے کام لیں اور سرکاری اور مجاز ویب سائٹس کا انتظار کریں؛ غیر قانونی ذرائع سے ٹکٹ خریدنا نہ صرف جیب پر بھاری پڑ سکتا ہے بلکہ دھوکہ دہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔