World
نیوزی لینڈ اور چین میں سفارتی کشیدگی، وزیر خارجہ کے بیان پر بیجنگ کا احتجاج
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ کی جانب سے چینی نژاد قانون ساز کو اپنے ملک واپس جانے کا کہنے پر بیجنگ نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ اس متنازعہ بیان کے بعد ایشیائی برادری کے رہنماؤں نے بھی وزیر خارجہ کے رویے کی سخت مذمت کی ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ اور بیجنگ کے نمائندوں کے درمیان اس وقت شدید سفارتی تنازعہ کھڑا ہو گیا جب وزیر خارجہ نے ایک چینی نژاد قانون ساز کو مبینہ طور پر کہا کہ وہ 'اپنے ملک واپس جائیں'۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر اور خاص طور پر دوطرفہ تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جس پر چینی حکومت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے باضابطہ طور پر اپنی شکایت درج کروائی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی آداب اور باہمی احترام کے منافی ہیں۔
دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے اس متنازعہ بیان کے بعد ملک بھر میں بحث چھڑ گئی ہے اور ایشیائی برادری کے رہنماؤں نے بھی وزیر خارجہ کے اس رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ریمارکس اقلیتوں بالخصوص ایشیائی نژاد شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں اور یہ جمہوری اقدار کے بھی خلاف ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے نے سیاست کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے پر حکومت سے وضاحت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نیوزی لینڈ اور چین کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات پہلے ہی نازک مراحل سے گزر رہے ہیں، اور اس طرح کے بیانات دونوں ملکوں کے درمیان فاصلوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ بیجنگ کی جانب سے باضابطہ شکایت کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ویلنگٹن حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا سفارتی اقدامات اٹھاتی ہے اور آیا وزیر خارجہ اپنے بیان پر کوئی معافی مانگتے ہیں یا نہیں۔