LIVE
Loading Breaking News...

ارجنٹائن میں اے آئی نگرانی: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تشویش

News Image
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک نئی رپورٹ میں صدر مائلے کی حکومت کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے نگرانی کے ریاستی نظام کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی شہریوں کی پرائیویسی کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کے روز جاری کردہ اپنی ایک مفصل رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ارجنٹائن کی دائیں بازو کی حکومت صدر جیویر مائلے کی قیادت میں ایک وسیع اور خطرناک مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نگرانی کا ریاستی نظام قائم کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے نے اس پیش رفت کو شہریوں کی بنیادی آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومتی سطح پر جس طرح سے جدید ٹیکنالوجی کو نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے ملک میں خوف اور خود سنسری کا ماحول پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ایمنسٹی کے ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ یہ نظام شہریوں کی سرگرمیوں، نقل و حرکت اور ڈیجیٹل رابطوں پر کڑی نظر رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے لیے کسی قسم کے عدالتی یا قانونی چیک اینڈ بیلنس کا فقدان ہے۔ یہ رپورٹ ارجنٹائن کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے بارے میں بحث کو ایک نئی جہت دیتی ہے۔ دوسری جانب ارجنٹائن کی حکومت نے عوامی تحفظ کے نام پر ان اقدامات کا دفاع کیا ہے، لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں کا ماننا ہے کہ عوامی تحفظ کے نام پر یہ اقدامات درحقیقت سیاسی اختلاف کو کچلنے اور شہریوں کی پرائیویسی کو پامال کرنے کا ایک حربہ ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ارجنٹائن کی صورتحال کا نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے دائرہ کار میں رہ کر کیا جائے۔ اس رپورٹ کے بعد ارجنٹائن کے اندر بھی سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں مختلف گروپس حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نگرانی کے اس پروگرام کے حوالے سے شفافیت کا مظاہرہ کرے اور فوری طور پر ان اقدامات کو روکے جو پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر اس طرح کے نگرانی کے نظام کو بغیر کسی قانونی ڈھانچے کے جاری رکھا گیا تو اس کے طویل المدتی اثرات ارجنٹائن کے جمہوری اداروں پر منفی مرتب ہوں گے۔ یہ معاملہ اب ایک بین الاقوامی بحث بن چکا ہے کہ کس طرح حکومتی سطح پر اے آئی کا استعمال انسانی حقوق کے تحفظ اور ریاستی نگرانی کے درمیان ایک نازک توازن کو بگاڑ سکتا ہے۔