LIVE
Loading Breaking News...

ملازمت اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس: Gen-Z کی ترجیحات کیا ہیں؟

News Image
نئی تحقیق کے مطابق 30 سال سے کم عمر افراد میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خدشات میں دو سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آجر Gen-Z کے چیٹ بوٹس استعمال کرنے کے بنیادی مقاصد کو سمجھنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔
موجودہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن آجروں اور نئی نسل (Gen-Z) کے درمیان اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ایک واضح خلیج دکھائی دے رہی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، 30 سال سے کم عمر افراد میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خدشات میں صرف دو سال کے مختصر عرصے میں 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کمپنیاں اور آجر اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ نئی نسل چیٹ بوٹس کو محض ایک ٹیکنالوجی کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی کام کرنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھتی ہے۔ زیادہ تر آجر یہ سمجھتے ہیں کہ نوجوان نسل صرف چیٹ بوٹس کے ذریعے اپنا کام آسان بنانے یا شارٹ کٹ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن درحقیقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ Gen-Z کے لیے AI کا استعمال خود کار نظام کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک نام ہے۔ جب آجر اس ٹیکنالوجی کو صرف پیداواری صلاحیت بڑھانے کے زاویے سے دیکھتے ہیں، تو وہ ان نوجوانوں کی ضروریات اور خدشات کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں جو اسے اپنے کیریئر کے مستقبل کے لیے ایک لازمی مہارت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے اندر بڑھتے ہوئے خدشات کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی کا خوف نہیں، بلکہ کام کی جگہ پر AI کے غلط استعمال سے جڑی غیر یقینی صورتحال ہے۔ وہ اس بات سے فکرمند ہیں کہ کس طرح آرٹیفیشل انٹیلیجنس ان کی انسانی مہارتوں کو متاثر کرے گی اور آیا ان کا مستقبل ان ٹولز کے ساتھ جڑا رہے گا یا یہ ٹولز ان کی جگہ لے لیں گے۔ آجروں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کے ساتھ بہتر روابط قائم کریں اور انہیں یہ باور کرائیں کہ AI ان کی دشمن نہیں بلکہ ایک معاون ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے کام کی نوعیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جب تک آجر Gen-Z کی نفسیات اور چیٹ بوٹس کے حوالے سے ان کے نقطہ نظر کو نہیں سمجھیں گے، تب تک کام کی جگہ پر ٹیکنالوجی کے انضمام میں مشکلات پیش آتی رہیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کمپنیوں میں ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جائے جس میں ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسانی مہارتوں کی قدر اور اہمیت بھی برقرار رہے، تاکہ نوجوان نسل اسے خوف کے بجائے ایک بہترین موقع کے طور پر قبول کر سکے۔