LIVE
Loading Breaking News...

عالمی فوجداری عدالت پر امریکی پابندیوں کے مضمرات

News Image
عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف امریکی اقدامات پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ جبکہ اسرائیل نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی حمایت میں قرار دیا ہے۔
عالمی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندیاں عالمی سیاست اور بین الاقوامی قانونی ڈھانچے میں ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکی حکومت کے اس اقدام کو عالمی سطح پر نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ اسے انصاف کے عالمی اداروں کی آزادی اور خود مختاری پر براہ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر دنیا کی سپر پاور طاقتیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے عدالتوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیں گی تو بین الاقوامی قوانین کا تقدس ختم ہو جائے گا۔ دوسری جانب، اسرائیل نے امریکہ کے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے ان کے ملکی امور میں مداخلت اور تحقیقات کا آغاز ایک جانبدارانہ عمل ہے۔ تل ابیب کے حکام کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے اقدامات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد اسرائیل کے دفاعی حق کو محدود کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل ان پابندیوں کو اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھ رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اسے انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانون دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئی سی سی کو سیاسی دباؤ کے ذریعے ناکارہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس سے پوری دنیا میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا عمل رک جائے گا۔ اس وقت یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا امریکی پابندیاں عالمی فوجداری عدالت کو مکمل طور پر مفلوج کر دیں گی یا یہ ادارہ اپنے وجود اور ساکھ کو بچانے کے لیے کوئی نئی حکمت عملی اختیار کرے گا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی انصاف کے ادارے اس وقت ایک دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں طاقتور ممالک کے مفادات اور عالمی اصولوں کے درمیان گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ مستقبل میں اس تنازع کے اثرات عالمی تعلقات پر گہرے مرتب ہوں گے۔ اگر عالمی عدالت اپنی خود مختاری برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہوگا۔ دنیا بھر کے ممالک اس وقت اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ آیا بین الاقوامی قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا یہ صرف کمزور ممالک کے احتساب کا ایک آلہ بن کر رہ گیا ہے۔