Pakistan
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی: سیکیورٹی کے سخت انتظامات
سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے کے لیے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی جو اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں قید ہیں، حالیہ عرصے میں ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا جس کے پیش نظر اعلیٰ عدالت نے انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہسپتال منتقلی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ سیکیورٹی پلان کے مطابق ہسپتال کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ہسپتال کے تقدس کو برقرار رکھنا ہے۔ سیکیورٹی آڈٹ مکمل ہونے کے بعد ہسپتال کے مخصوص حصوں کو سب جیل قرار دیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا جا سکتا ہے۔ جیل حکام اور پولیس کی ٹیمیں بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال لانے اور طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کرنے کی ذمہ دار ہوں گی۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ پارٹی کے انفارمیشن سیکریٹری شیخ وقاص اکرم نے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت اور طبی معائنہ ان کا قانونی حق ہے، تاہم انہوں نے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ ہسپتال کے قریب ہجوم کرنے سے گریز کریں تاکہ طبی عملے کو اپنا کام کرنے میں آسانی ہو۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس ضمن میں واضح حکم دیا تھا کہ قید میں موجود کسی بھی شخص کو طبی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور ریاست اس کی صحت کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔
تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل بھی دائر کی گئی ہے، جس میں عدالتی فیصلے کو متنازع قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عدالت کی جانب سے حکم معطل نہیں ہوتا، انتظامیہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہے۔ فی الحال شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی الرٹ کر دی گئی ہیں اور ہسپتال کے ارد گرد سیکیورٹی حصار مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا عمل پرامن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔