LIVE
Loading Breaking News...

سٹیبل کوائن ادائیگیوں کا نیا رجحان: رین سی ای او فاروق ملک کا اہم انکشاف

News Image
کرپٹو ایکسچینج رین کے سی ای او فاروق ملک کا کہنا ہے کہ جدید ادائیگیوں کے نیٹ ورکس کی بدولت تاجر جانے انجانے میں سٹیبل کوائنز میں رقوم وصول کر رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے مالیاتی لین دین کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور سادہ ہو گیا ہے۔
کرپٹو ایکسچینج رین (Rain) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فاروق ملک نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ جدید ڈیجیٹل دور میں مالیاتی ٹیکنالوجی کس قدر خاموشی سے کاروبار کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بہت سے تاجر جو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نیٹ ورکس استعمال کر رہے ہیں، انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ وہ درحقیقت سٹیبل کوائنز (Stablecoins) کے ذریعے رقوم وصول کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اب عام کاروباری لین دین کا ایک پوشیدہ لیکن مؤثر حصہ بن چکی ہے۔ فاروق ملک کے مطابق، رین (Rain) پلیٹ فارم کی جانب سے سہولت فراہم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاجروں کو ڈیجیٹل اثاثوں کی پیچیدگیوں میں الجھنے کے بجائے آسان ادائیگیوں کے تجربے سے گزارا جائے۔ اس نظام کے تحت، جب کوئی گاہک سٹیبل کوائن کے ذریعے ادائیگی کرتا ہے، تو پس پردہ موجود ٹیکنالوجی اسے خودکار طریقے سے مقامی کرنسی میں تبدیل کر دیتی ہے یا اسے ادائیگی کے نیٹ ورک کے ذریعے اس طرح منتقل کرتی ہے کہ مرچنٹ (تاجر) کو صرف اپنی مطلوبہ رقم ملتی ہے۔ تاجر کو اس عمل کے تکنیکی پس منظر، یعنی سٹیبل کوائن کے استعمال یا بلاک چین کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ عمل نہ صرف لین دین کو تیز بناتا ہے بلکہ روایتی بینکاری نظام میں درپیش تاخیر اور اضافی اخراجات کو بھی نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر تاجروں کے درمیان اس ٹیکنالوجی کی قبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رجحان اسی طرح برقرار رہا تو آنے والے وقتوں میں ڈیجیٹل کرنسیوں کا استعمال عام بینکاری کا ایک لازمی حصہ بن جائے گا، جس میں صارفین اور تاجروں کو کرپٹو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ یا تکنیکی مہارت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ رین (Rain) جیسی کمپنیاں اس عمل کو آسان بنا کر مالیاتی شمولیت (Financial Inclusion) کے سفر کو تیز کر رہی ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سٹیبل کوائنز اب محض سرمایہ کاری کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ عالمی تجارت میں ادائیگیوں کے ایک تیز اور محفوظ متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔