LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ملازمتوں میں صنفی فرق: خواتین پیچھے کیوں رہ گئیں؟

News Image
لنکڈ ان کی حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ملازمتوں کے بڑھتے ہوئے مواقع کے باوجود خواتین کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ یہ صنفی فرق ٹیکنالوجی انڈسٹری میں پہلے سے موجود تفاوت کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
لنکڈ ان کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین تحقیقی رپورٹ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم اور تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ملازمتوں کے بے پناہ مواقع پیدا ہونے کے باوجود خواتین اس ترقی کی دوڑ میں مردوں سے نمایاں طور پر پیچھے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی سے متعلقہ نئی ملازمتوں میں خواتین کی شمولیت کی شرح مردوں کے مقابلے میں کافی کم ہے، جس کی وجہ سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صنفی خلیج مزید وسیع ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف موجودہ حالات کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ مستقبل کے معاشی مواقع کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کی صنعت میں صنفی مساوات کے لیے طویل عرصے سے بات کی جا رہی ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے تیزی سے ابھرتے ہوئے میدان میں خواتین کے لیے رکاوٹیں بدستور قائم ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اے آئی کے شعبے میں درکار مخصوص مہارتوں کے حصول تک خواتین کی رسائی محدود ہے یا پھر انہیں ان کرداروں میں داخلے کے لیے سماجی و ادارہ جاتی سطح پر تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لنکڈ ان کے تجزیے کے مطابق، اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے کمپنیوں اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ صرف ملازمت کے مواقع پیدا کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ خواتین کو اے آئی ٹریننگ اور اعلیٰ سطح کے عہدوں تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں صنفی توازن کو برقرار رکھنے میں ناکام رہتی ہیں تو یہ نہ صرف ان کی اپنی جدت طرازی کی صلاحیت کو متاثر کرے گا بلکہ معاشرتی سطح پر بھی عدم مساوات کو فروغ دے گا۔ آخر میں، یہ رپورٹ پالیسی سازوں اور ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے بھرتی کے عمل اور کارپوریٹ کلچر کا دوبارہ جائزہ لیں۔ مصنوعی ذہانت کا مستقبل ہر کسی کے لیے ہونا چاہیے، اور اگر خواتین کو اس شعبے میں مساوی مقام نہیں دیا گیا، تو دنیا ایک بڑی انسانی صلاحیت اور تخلیقی سوچ سے محروم رہے گی۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں بہتری کے لیے تنوع اور شمولیت کو محض نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔