LIVE
Loading Breaking News...

سیکیورٹی اور پیشہ ورانہ مہارت: ماہرین کی رائے

News Image
سیکیورٹی کے نامور ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ امن و امان کے قیام کے لیے صرف طاقت کا استعمال کافی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تربیت اور معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔ ماہرین نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی قومی سلامتی کا اہم ستون قرار دیا ہے۔
حال ہی میں سیکیورٹی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور اعلیٰ حکام نے ایک اہم نشست کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ جدید دور میں سیکیورٹی کا تصور صرف بندوق اور طاقت کے استعمال تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ایل ایس ایس ٹی ایف (LSSTF) کے ایگزیکٹو سیکرٹری اور سی ای او اوگن سان، اے آئی جی فورس سی آئی ڈی الاگبون اے آئی جی اکپانونڈوم، اور اے آئی جی نورت سمیت دیگر ماہرین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی بھی معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور انٹیلی جنس معلومات کا بروقت تبادلہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مجرمانہ عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تکنیکی مہارتوں کا استعمال اور انٹیلی جنس بیسڈ پولیسنگ ہی جدید سیکیورٹی چیلنجز کا بہترین جواب ہے۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہونا چاہیے بلکہ انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ پر زور دیتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ جب مختلف سیکیورٹی ایجنسیاں آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتی ہیں تو جرائم کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر کو پہلے ہی ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ یہ باہمی تعاون ہی جدید معاشروں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔ علاوہ ازیں، سیکیورٹی ماہرین نے اہلکاروں کی صحت اور تندرستی کو ایک نظر انداز شدہ مگر انتہائی اہم پہلو قرار دیا۔ اے آئی جی سطح کے افسران کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند پولیس اہلکار ہی اپنے فرائض بطریق احسن سرانجام دے سکتا ہے۔ ذہنی دباؤ اور جسمانی تکالیف کا شکار اہلکار سیکیورٹی کے معاملات میں درست فیصلے کرنے سے قاصر رہ سکتے ہیں، اس لیے تربیت کے دوران صحت مند طرز زندگی اور نفسیاتی معاونت کو سیکیورٹی نصاب کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز میں ایک ایسا کلچر پروان چڑھایا جائے جہاں اہلکار اپنی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو بھی مسلسل جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بناتے رہیں۔