Technology
مصنوعی ذہانت کا مستقبل اور نوجوانوں کی تشویش
پییو ریسرچ سینٹر کے حالیہ سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے مستقبل کو لے کر پرجوش ہونے کے بجائے گہری تشویش کا شکار ہے۔ نوجوان طبقہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی اس تیزی سے تبدیلیوں کے سماجی اور انفرادی اثرات کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتا ہے۔
پییو ریسرچ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین سروے رپورٹ میں یہ اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں پرجوش ہونے کے بجائے گہری فکرمندی کا شکار ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں جہاں مصنوعی ذہانت کو ایک انقلاب قرار دیا جا رہا ہے، وہیں معاشرے کا نوجوان طبقہ اس کے طویل المدتی اثرات کے حوالے سے تحفظات رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بڑی تعداد میں نوجوان یہ مانتے ہیں کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی ان کے کیریئر، روزگار کے مواقع اور ذاتی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ سروے میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ انہیں ایک ایسے غیر یقینی مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے جس کے نتائج ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں پایا جانے والا یہ خوف بلاوجہ نہیں ہے۔ روزگار کے منڈی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے ہوئے عمل دخل نے ملازمتوں کے ختم ہونے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ بہت سے نوجوانوں کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی نے تخلیقی اور تکنیکی کاموں میں انسان کی جگہ لے لی، تو نوجوان گریجویٹس کے لیے مارکیٹ میں جگہ بنانا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، پرائیویسی، ڈیٹا سیکیورٹی اور ڈیجیٹل اخلاقیات کے حوالے سے بھی نوجوانوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ وہ اس بات پر فکر مند ہیں کہ کس طرح الگورتھم اور خودکار نظام انسانی زندگی کے اہم فیصلے کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انسانی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے تجزیے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نوجوان نسل صرف ٹیکنالوجی کے فوائد سے ہی واقف نہیں بلکہ وہ اس کے تاریک پہلوؤں کا بھی بخوبی ادراک رکھتی ہے۔ تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جاری بحث نے نوجوانوں کو مزید چوکنا کر دیا ہے۔ وہ اس ٹیکنالوجی کو ایک ایسے آلے کے طور پر دیکھتے ہیں جس پر اگر صحیح طریقے سے قابو نہ پایا گیا، تو یہ سماجی تقسیم اور غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ اب یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیاری اور استعمال کے لیے سخت ضوابط اور اخلاقی اصولوں کا تعین کیا جائے تاکہ انسانیت کو اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
آخر میں، پییو ریسرچ کا یہ سروے ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنیوں اور پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اگر نوجوان نسل، جو اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی صارف ہے، خود کو غیر محفوظ یا خوفزدہ محسوس کرتی ہے، تو یہ ٹیکنالوجی کے طویل المدتی استحکام کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں کو اب چاہیے کہ وہ شفافیت کو فروغ دیں اور نوجوانوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ صرف جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ عوامی اعتماد کو بحال کرنا اور یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ اے آئی انسانی ترقی میں معاون ثابت ہو، نہ کہ اس کی رکاوٹ۔