LIVE
Loading Breaking News...

نائیجیریا کی آئل انڈسٹری میں بڑی سرمایہ کاری، صدر ٹینوبو کے نئے اقدامات

News Image
صدر ٹینوبو کی جانب سے جاری کردہ نئے آف شور ٹیکس آرڈر سے نائیجیریا کی تیل کی صنعت میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اس اقدام سے ملکی تیل کی پیداوار میں روزانہ 10 لاکھ بیرل کا اضافہ ہونے کی امید ہے۔
نائیجیریا کے صدر بولا ٹینوبو کی جانب سے آف شور آئل اینڈ گیس سیکٹر کے لیے جاری کردہ نئے ٹیکس آرڈر کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ نائیجیرین اپ اسٹریم پیٹرولیم ریگولیٹری کمیشن (NUPRC) کے مطابق، اس حکومتی اقدام کا بنیادی مقصد توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور طویل عرصے سے تعطل کا شکار منصوبوں کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکس رعایت کے نتیجے میں نائیجیریا میں تقریباً 50 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد ملک کی مجموعی تیل کی پیداوار میں روزانہ 10 لاکھ بیرل (1mbpd) تک اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ نائیجیریا جو پہلے ہی افریقہ میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، اس اضافے کے بعد عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکے گا۔ یہ اقدام نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لائے گا بلکہ توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے بھی سازگار ماحول فراہم کرے گا۔ NUPRC نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹیکس اصلاحات آف شور منصوبوں کی پیچیدگیوں اور ان میں درکار بھاری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہیں۔ ماضی میں ٹیکسوں کی زیادہ شرح اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار نئے منصوبوں میں دلچسپی لینے سے گریزاں تھے۔ تاہم، صدر ٹینوبو کے اس تازہ ترین فیصلے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور نائیجیریا کی آئل اینڈ گیس انڈسٹری میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہونے کی توقع ہے۔ مستقبل کے حوالے سے حکومت کا عزم ہے کہ وہ توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرے گی تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔ یہ منصوبہ نائیجیریا کی معاشی بحالی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تیل کی پیداوار میں اضافہ براہ راست قومی آمدنی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اثر انداز ہوگا۔ حکومتی عہدیداروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس آرڈر پر عمل درآمد کے بعد نائیجیریا کی عالمی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔