LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک کا منفرد آئینہ نما گھر 15 ملین ڈالر میں فروخت کے لیے دستیاب

News Image
نیویارک کے ایک خصوصی علاقے میں ایک ایسا گھر فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے جس کا بیرونی حصہ مکمل طور پر آئینے سے بنا ہوا ہے۔ یہ منفرد عمارت اپنے قدرتی ماحول میں اس طرح ضم ہو جاتی ہے کہ دور سے دیکھنے پر نظروں سے اوجھل لگتی ہے۔
نیویارک کے ایک انتہائی خصوصی اور پوش علاقے میں ایک ایسا رہائشی شاہکار فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین تعمیرات اور پراپرٹی خریداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ 15 ملین ڈالر کی بھاری قیمت پر مارکیٹ میں آنے والا یہ گھر اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور حیران کن نمونہ ہے، جس کا بیرونی حصہ مکمل طور پر آئینوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ اس خاص ڈیزائن کا مقصد یہ ہے کہ عمارت ارد گرد موجود قدرتی مناظر کی عکاسی کر سکے اور ماحول کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہو کر غائب ہو جائے۔ ڈیزائنرز کے مطابق، اس گھر کی تعمیر کا بنیادی تصور 'سیملیس' یا ہموار انضمام تھا تاکہ قدرت اور انسانی تعمیرات کے درمیان فرق کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس لگژری رہائش گاہ کے اندرونی حصے اور تعمیراتی معیار کو انتہائی جدید اور اعلیٰ درجے کے میٹریل سے آراستہ کیا گیا ہے۔ گھر کی کھڑکیاں، دیواریں اور بیرونی پینلز ایسے زاویوں پر لگائے گئے ہیں کہ یہ قریبی درختوں، آسمان اور زمین کی خوبصورتی کو اپنے اندر منعکس کرتے ہیں۔ یہ تکنیک نہ صرف دیکھنے والوں کے لیے ایک بصری فریب کا باعث بنتی ہے بلکہ گھر کو ایک جادوئی اور پراسرار مقام کا درجہ بھی دیتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے گھروں کی تعمیر کے لیے انتہائی پیچیدہ انجینئرنگ اور آرکیٹیکچرل مہارت درکار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ پراپرٹی نہ صرف رہائش کے لیے بلکہ ایک فن پارے کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ نیویارک کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں اس پراپرٹی کی لسٹنگ ایک بڑے واقعے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ 15 ملین ڈالر کی قیمت اگرچہ بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کی منفرد تعمیر، بہترین لوکیشن اور جدید ترین سہولیات کے پیش نظر ماہرین کو امید ہے کہ اسے بہت جلد ایک ایسا خریدار مل جائے گا جو آرٹ اور منفرد طرز زندگی کا شوقین ہو۔ گھر کے اندرونی حصوں میں ایسی کھڑکیاں نصب ہیں جو باہر کے نظاروں کو مکمل طور پر اندر لاتی ہیں، جس سے مکینوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ قدرت کے بالکل وسط میں رہ رہے ہوں۔ یہ گھر جدید دور کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں اب انسان قدرتی ماحول کو تباہ کرنے کے بجائے اسے اپنی تعمیرات کا حصہ بنانے کو ترجیح دے رہا ہے۔