LIVE
Loading Breaking News...

میٹا اور بچوں کی حفاظت: سابق انجینئر کے سنسنی خیز انکشافات

News Image
میٹا کے سابق انجینئر نے ایک عدالتی سماعت کے دوران انکشاف کیا ہے کہ کمپنی نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے پلیٹ فارم استعمال کرنے پر دانستہ طور پر نظریں چرا لیں۔ یہ بیان بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے جاری قانونی جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔
میٹا کے ایک سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر نے حال ہی میں ایک اہم قانونی مقدمے کی سماعت کے دوران کمپنی کے اندرونی نظام پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے ججوں اور جیوری کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ میٹا انتظامیہ نے 13 سال سے کم عمر کے بچوں کے انسٹاگرام استعمال کرنے کے حوالے سے ایک غیر ذمہ دارانہ اور مبینہ طور پر 'مت پوچھو، مت بتاؤ' (Don't ask, don't tell) کا رویہ اپنا رکھا تھا۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں کی آن لائن حفاظت اور سوشل میڈیا کے مضر اثرات پر سخت بحث جاری ہے۔ گواہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کے پاس ایسے ٹھوس میکانزم کا فقدان تھا جو مؤثر طریقے سے کم عمر بچوں کو پلیٹ فارم پر آنے سے روک سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ میٹا کو بخوبی علم تھا کہ بہت سے نابالغ بچے اکاؤنٹ بنا رہے ہیں، لیکن کمپنی نے اپنی کاروباری نمو اور صارفین کی تعداد بڑھانے کی خاطر اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی۔ سابق انجینئر، جنہوں نے اس سے قبل امریکی کانگریس کے سامنے بھی بچوں کی حفاظت کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا، نے اس بات پر زور دیا کہ کمپنی کے اندر منافع کو بچوں کی ذہنی صحت اور تحفظ پر فوقیت دی جاتی رہی ہے۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران اٹھائے گئے نکات میٹا کے لیے بڑی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو کمپنی کو نہ صرف بھاری جرمانے ہو سکتے ہیں بلکہ اس کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں لانے کے لیے دباؤ بھی بڑھ جائے گا۔ انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد والدین کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے، کیونکہ ان پلیٹ فارمز پر موجود مواد اور الگورتھم بچوں کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ادھر میٹا کی جانب سے ان الزامات پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم کمپنی نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے نئے ٹولز اور حفاظتی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ آنے والے وقت میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بچوں کی آن لائن پرائیویسی اور ان کی حفاظت کے حوالے سے ایک نئی قانونی مثال قائم کرے گا۔ عوام اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اس کیس کو انتہائی اہمیت کی نظر سے دیکھ رہی ہیں کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کی احتساب کی طرف ایک اہم پیشرفت ہو سکتی ہے۔