Technology
میٹا میں بچوں کی حفاظت پر سمجھوتہ: مارک زکربرگ پر سابق ملازم کے سنگین الزامات
میٹا کے سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے مارک زکربرگ پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی میں صارفین کے ڈیٹا اور بچوں کی حفاظت کے بجائے ترقی اور انگیجمنٹ کو ترجیح دی جاتی تھی۔
سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک بڑا تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب میٹا پلیٹ فارمز کے ایک سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے حلفیہ بیان دیتے ہوئے مارک زکربرگ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔ سابق عہدیدار کا کہنا ہے کہ میٹا کے اندر ایک ایسا کلچر پروان چڑھایا گیا جس میں بچوں کی آن لائن حفاظت کو کمپنی کی ترقی اور صارفین کی انگیجمنٹ کے مقابلے میں ہمیشہ ثانوی اہمیت دی گئی۔ یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر سوشل میڈیا کمپنیوں کے بچوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
اپنے بیان میں سابق انجینئر نے مزید کہا کہ میٹا کی انتظامیہ کی جانب سے ایسے فیصلے کیے گئے جن کا مقصد صرف اور صرف پلیٹ فارم پر لوگوں کے قیام کے دورانیے کو بڑھانا تھا، چاہے اس کے نتیجے میں صارفین، بالخصوص کم عمر بچوں کو خطرات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کمپنی کی اندرونی میٹنگز میں حفاظتی اقدامات کو اکثر مالی مفادات اور منافع کی دوڑ میں پس پشت ڈال دیا جاتا تھا۔ یہ الزامات مارک زکربرگ کی قیادت پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں، جو خود کو ہمیشہ صارفین کے تحفظ کے لیے پرعزم قرار دیتے آئے ہیں۔
اس معاملے پر میٹا کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم کمپنی پہلے بھی ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کمپنی نے بچوں کی حفاظت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا، تو اس کے سخت قانونی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سینیٹ کی جانب سے ان انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے سخت ضوابط اور قوانین بنانے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ بچوں کو ہراسانی، غیر مناسب مواد اور نشہ آور ڈیجیٹل سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ گواہی میٹا کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، کیونکہ اب یہ معاملہ صرف کمپنی کی ساکھ تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر کے والدین کے تحفظات کا مرکز بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کی مزید تحقیقات متوقع ہیں، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا واقعی منافع کمانے کی ہوس میں ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں نے انسانی تحفظ کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا ہے۔