World
ایران پر امریکی پابندیاں: ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بڑی عسکری کارروائی کے بجائے معاشی پابندیوں کو سخت کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی ایران کو تنہا کرنے اور اس کی معیشت کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے۔
امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بشمول بیسنٹ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی بڑی فوجی مہم جوئی یا بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس، وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت ترین اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کی معیشت کو نشانہ بنانا اور اسے عالمی تجارتی نظام سے دور کر کے تنہا کرنا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ عسکری تصادم کے بجائے معاشی محاصرہ تہران کو میز کی طرف لانے یا اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے پر مجبور کرنے کا زیادہ موثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف 'اقتصادی جنگ' کی پالیسی کو عالمی سطح پر گہری تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ اب ایران کے تجارتی شراکت داروں، خاص طور پر چین پر دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کے لیے مالیاتی راستے بند کیے جا سکیں۔ اگرچہ ایران نے ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ناکام تجربہ قرار دیا ہے، تاہم واشنگٹن کا موقف ہے کہ ایران کی جوہری اور علاقائی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے معاشی دباؤ ناگزیر ہے۔ امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایران کے ان تمام تجارتی راستوں کو بند کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو تہران کو ملکی معیشت سنبھالنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ اپنی 'میکسیمم پریشر' کی پالیسی کو مزید وسعت دے رہا ہے، وہیں ایران کی جانب سے بھی ردعمل میں اپنی علاقائی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی یہ پالیسی طویل مدت میں کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا ایران کے اہم تجارتی شراکت دار واشنگٹن کے مطالبات کو مانتے ہیں یا نہیں۔ بہر حال، فی الحال امریکہ کی جانب سے بڑی جنگ کے امکانات کو رد کرنا خطے میں ایک عارضی سکون کا باعث بنا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی معاشی جنگ عالمی منڈیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔