World
شام میں اسد دور کے بعد سول سوسائٹی کا مستقبل
بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام میں سول سوسائٹی ایک نئے اور غیر یقینی دور سے گزر رہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا یہ تنظیمیں ریاستی ڈھانچے کے ساتھ مل کر کام کریں گی یا انہیں نئے حکمرانوں کی جانب سے کنٹرول کا سامنا ہوگا۔
شام میں بشار الاسد کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک ایک ایسے تاریخی دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں ریاست اور معاشرے کے درمیان تعلقات کی ازسرنو تشکیل ہو رہی ہے۔ برسوں تک جاری رہنے والی خانہ جنگی اور آمرانہ نظام کے سائے میں کام کرنے والی سول سوسائٹی کی تنظیمیں اب خود کو ایک نئی حقیقت سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے دوران سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سول سوسائٹی آزادانہ طور پر اپنی خدمات انجام دے سکے گی یا اسے نئے حکمران طبقے کی جانب سے اسی قسم کے کنٹرول اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا تجربہ پچھلی دہائیوں میں کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شام میں سول سوسائٹی کے لیے کام کرنے والے کارکنان اس وقت سخت تذبذب کا شکار ہیں۔ ایک طرف ملک کو تعمیر نو اور انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے سول سوسائٹی کا کردار ناگزیر ہے، جبکہ دوسری طرف نئی سیاسی قیادت کی جانب سے سخت ضابطہ اخلاق اور نگرانی کا خدشہ بھی موجود ہے۔ سول سوسائٹی کی بہت سی تنظیمیں جو اسد دور میں حکومتی دست درازی سے بچنے کے لیے خفیہ طور پر کام کرتی تھیں، اب ایک ایسے ماحول کی متلاشی ہیں جہاں وہ بغیر کسی خوف کے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کر سکیں۔
اس صورتحال میں بین الاقوامی برادری کی نظریں بھی شام پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا نئی حکومت سول سوسائٹی کو ایک شراکت دار کے طور پر قبول کرے گی یا نہیں۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ جب بھی کسی ملک میں سیاسی تبدیلی آتی ہے، وہاں کی سول سوسائٹی کو پہلے کچھ عرصہ ایک غیر یقینی خلا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شام کے حوالے سے توقع کی جا رہی ہے کہ اگر نئی قیادت واقعی جمہوری اصلاحات کی طرف گامزن ہوتی ہے تو سول سوسائٹی کو درپیش پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں، جس سے ملک میں سماجی ہم آہنگی کے نئے راستے کھل سکیں گے۔
آخر میں، شام کی سول سوسائٹی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا وہ حکومتی ایجنڈے کا حصہ بن کر رہ جائے گی یا اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگی۔ اگر ریاست اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک صحت مند اور شفاف شراکت داری قائم ہوتی ہے تو یہ شام کے لیے ایک نئے اور روشن باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، کسی بھی قسم کی آمریت کی بحالی، چاہے وہ کسی بھی نام سے ہو، ملک میں موجود سول سوسائٹی کے لیے ایک بار پھر بقا کی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔