LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی ہسپتال منتقلی: سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد

News Image
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہسپتال کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو جمعہ کے روز سخت سیکیورٹی حصار میں اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ عمران خان جو کہ گزشتہ برس اگست سے توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس سمیت مختلف مقدمات میں قید ہیں، کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے مسلسل خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد ہسپتال کے اطراف سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ اس آپریشن کے لیے اسلام آباد کیپیٹل پولیس، انتظامیہ اور رینجرز کی بھاری نفری کو ہسپتال کے ارد گرد تعینات کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی آرڈر کے مطابق، علاقے میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، دہشت گردی کے خدشات کو روکنے اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہسپتال جانے والے راستوں پر گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام کیا جائے اور ہر مشکوک گاڑی کی تلاشی لی جائے۔ ہسپتال کے کچھ حصوں کو ممکنہ طور پر سب جیل قرار دینے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ قانون کے مطابق سابق وزیراعظم کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے شیخ وقاص اکرم نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کارکنان سے درخواست کی ہے کہ وہ ہسپتال کے باہر ہجوم نہ کریں اور قیادت کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے اپنے لیڈر کی صحت اور پرائیویسی کا خیال رکھیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ قید کا مطلب یہ نہیں کہ قیدی کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھا جائے۔ عدالت نے ریاستی اداروں کو حکم دیا تھا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور وقار کو یقینی بنائیں، جس پر عمل کرتے ہوئے اب انہیں ہسپتال لایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کے خلاف نظرثانی کی اپیل بھی دائر کی تھی جس میں عدالتی فیصلے کو امتیازی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم عدالت کے عبوری حکم پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے اور ہسپتال میں طبی ماہرین کی ٹیمیں عمران خان کے تفصیلی معائنے کے لیے تیار ہیں۔ جیل حکام کے مطابق طبی معائنے کے بعد سابق وزیراعظم کو دوبارہ جیل منتقل کر دیا جائے گا، جبکہ ہسپتال میں ان کے قیام کی مدت کا انحصار طبی ٹیم کی رپورٹ پر ہوگا۔ اس دوران ہسپتال کے مخصوص وارڈز کو سیکیورٹی کے پیش نظر عام شہریوں کے لیے محدود کر دیا گیا ہے۔