World
جی اے او کی بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیاں، تحقیقاتی رپورٹ جاری
گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ادارے کے بھرتی کے عمل کے دورانیے میں غیر شفافیت پائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران اعداد و شمار میں ردوبدل اور تضادات دیکھے گئے۔
امریکہ کے سرکاری ادارے 'گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس' (GAO) کو، جو خود دیگر سرکاری اداروں کے کام کی جانچ پڑتال کرتا ہے، اب خود اپنے ہی بھرتی کے عمل کے حوالے سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ ادارے کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جی اے او کے اندر ملازمین کی بھرتی کے عمل کو مکمل ہونے میں لگنے والے وقت کے اعداد و شمار میں سنگین تضادات پائے گئے ہیں۔ اس رپورٹ نے ادارے کی داخلی شفافیت پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2024 کے دوران جی اے او نے بھرتی کے دورانیے کا حساب لگانے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا، اس میں اہم ڈیٹا کو جان بوجھ کر خارج کیا گیا۔ انسپکٹر جنرل کے تفتیش کاروں نے پایا کہ بھرتی کا عمل کب شروع ہوا، اس حوالے سے ریکارڈ میں شدید عدم مطابقت پائی گئی۔ کچھ کیسز میں عمل کے آغاز کی تاریخ کو تبدیل کیا گیا تاکہ بھرتی کا عمل بظاہر تیز اور کارکردگی کے مطابق نظر آئے، جو کہ سرکاری قوانین کے منافی عمل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جی اے او جیسا ادارہ، جس کا بنیادی کام ہی حکومتی اخراجات اور کارکردگی کی نگرانی کرنا ہے، اگر خود اپنے نظام میں ایسی بے ضابطگیوں کا شکار پایا جائے تو یہ عوامی اعتماد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بھرتی کے عمل کو ٹریک کرنے والے سافٹ ویئر اور مینوئل ریکارڈز کے درمیان بھی تضاد موجود ہے، جس کی وجہ سے حقیقی وقت کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ادارے کی انتظامیہ کو اب ان نقائص کو دور کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انسپکٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ بھرتی کے پورے عمل کے دوران شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ٹائم ٹو ہائر (time-to-hire) کیلکولیشن کے لیے ایک معیاری اور ناقابلِ تبدیلی نظام وضع کیا جائے۔ جی اے او کے ترجمان نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور مستقبل میں ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔