Business
کاپر کی کمی اور عالمی گرین انرجی ٹرانزیشن پر اثرات
دنیا بھر میں کاپر کی بڑھتی ہوئی قلت سبز توانائی کی طرف منتقلی کے عمل کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اس دھات کی کمی سے نہ صرف صنعتی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر کاپر یعنی تانبے کی بڑھتی ہوئی قلت نے دنیا بھر کے ماہرین معاشیات اور توانائی کے شعبے کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے کاپر ایک بنیادی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا کو ایک ایسے پانچ ٹریلین ڈالر کے ممکنہ بحران کا سامنا ہے جو سبز توانائی کی منتقلی کے عمل کو سست کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی لاگت میں بے پناہ اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر کاپر کی فراہمی میں متوقع اضافہ نہ ہوا تو مستقبل میں بجلی کی ترسیل اور گرین ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔
کاپر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دھات بجلی کی ترسیل کے نظام، بیٹریوں، اور ونڈ ٹربائنز میں ناگزیر ہے۔ جیسے جیسے دنیا کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے الیکٹریفیکیشن کی طرف بڑھ رہی ہے، کاپر کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کان کنی کے موجودہ منصوبے اور نئی دریافتیں اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اس قلت کے نتیجے میں نہ صرف صنعتی پیداوار کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی بلکہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی لاگت بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائے گی، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔
اس بحران کے سماجی اور سیاسی اثرات بھی انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔ جن ممالک کے پاس کاپر کے ذخائر موجود ہیں، وہ عالمی سطح پر نئی جیو پولیٹیکل طاقت کے طور پر ابھر سکتے ہیں، جس سے سپلائی چین میں ایک نیا توازن پیدا ہوگا۔ اس صورتحال نے ترقی یافتہ ممالک کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی صنعتی حکمت عملیوں کو تبدیل کریں اور متبادل ذرائع یا ری سائیکلنگ ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری بڑھائیں۔ کاپر کی قلت صرف ایک صنعتی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو ہمارے کلائمیٹ چینج کے اہداف کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اب اس دھات کی پائیدار فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔